آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کم کرنے کی تجویز

Calender Icon اتوار 31 مئی 2026

آئندہ وفاقی بجٹ(Budget) کے لیے تنخواہ دار طبقے، کاروباری شعبے اور سرمایہ کاروں کو ریلیف دینے سے متعلق متعدد تجاویز سامنے آ گئی ہیں۔

معاشی تھنک ٹینک ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے حکومت کو بجٹ سفارشات پیش کر دی ہیں جن میں مختلف شعبوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

سفارشات کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر عائد زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماہانہ 80 ہزار روپے آمدن حاصل کرنے والے ملازمین کو ٹیکس چھوٹ دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ متوسط طبقے پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔

بجٹ تجاویز میں کارپوریٹ سیکٹر کے لیے بھی ریلیف کی سفارش کی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق کمپنیوں پر عائد کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

مزیدپڑھیں:کتناآب زمزم لانے کی اجازت ،نئی پالیسی آگئی

غیر تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس میں نمایاں کمی کی سفارش سامنے آئی ہے۔ تجاویز کے مطابق اس شعبے پر عائد ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 45 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کی جائے۔

دستاویز میں سیلز ٹیکس کے حوالے سے بھی اہم سفارش شامل کی گئی ہے، جس کے تحت آئندہ تین برسوں میں سیلز ٹیکس کی شرح موجودہ 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ریٹیلرز، مرچنٹس اور وینڈرز کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ محصولات میں اضافہ اور دستاویزی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بھی بڑی رعایت کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ٹیکسوں کی شرح 5.5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

بجٹ تجاویز میں یہ سفارش بھی شامل ہے کہ ملک میں 100 فیصد سرمایہ کاری کرنے والے صنعتکاروں سے ذرائع آمدن سے متعلق سوال نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر بھیجنے اور ملک میں سرمایہ کاری کرنے پر خصوصی مراعات دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔