جین ٹیسٹ، بریسٹ کینسرسے نجات کیموتھراپی کے بغیر بھیممکن: تحقیق

Calender Icon اتوار 31 مئی 2026

چھاتی کے سرطان (brest cancer) میں مبتلا ہزاروں خواتین اب ایک نئے جین ٹیسٹ کی بدولت کیموتھراپی کے تکلیف دہ عمل سے گزرے بغیر بھی صحت یاب ہو سکیں گی۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ’پرو سگنا‘ نامی یہ جدید ٹیسٹ سرجری کے بعد رسولی کے نمونے (بائیوپسی) کی مدد سے یہ پتہ لگاتا ہے کہ کینسر پھیلانے والے جینز کتنے جارحانہ ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کی زیرِ نگرانی ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق ایسے مریض جن کا ٹیسٹ اسکور ’کم خطرے‘ والا آیا، انہوں نے کیموتھراپی کروائے بغیر صرف سرجری اور طویل مدتی ہارمون تھراپی کا سہارا لیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ کیموتھراپی نہ کروانے کے باوجود 93.6 فیصد خواتین پانچ سال بعد بھی کینسر سے بالکل محفوظ رہیں جبکہ کیموتھراپی کروانے والی خواتین میں یہ شرح 94.8 فیصد تھی۔ یعنی دونوں کے نتائج میں محض 1.2 فیصد کا معمولی فرق دیکھا گیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کیموتھراپی سے زندگی بچنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہو، تو مریضوں کو اس کے ہولناک سائیڈ ایفیکٹس سے بچایا جانا چاہیے۔

اس ٹیسٹ کی بدولت مریض ناصرف جسمانی اور ذہنی اذیت سے بچیں گے بلکہ اسپتالوں کے اخراجات، ادویات کے بل اور عملے کے وقت کی بھی بڑی بچت ہوگی۔

اس کلینیکل ٹرائل میں 40 سال سے زائد عمر کی 4,400 ایسی خواتین کو شامل کیا گیا تھا جنہیں کینسر کے دوبارہ پلٹ آنے کا زیادہ خطرہ تھا۔

ٹیسٹ کے نتائج نے واضح کیا کہ کم اسکور حاصل کرنے والی خواتین میں سے صرف 2 فیصد کو ہی کیموتھراپی سے فائدہ پہنچ سکتا تھا۔

مزید پڑھیں:امریکا، ایران پیغامات تبادلہ جاری، کوئی حتمی مسودہ طے نہیں پایا، نیویارک ٹائمز

جبکہ باقی 98 فیصد خواتین کسی اضافی فائدے کے بغیر ہی اس تکلیف دہ علاج سے گزرنے پر مجبور ہوتیں، جس کی اب ضرورت نہیں رہے گی۔