نئے بجٹ میں سولر پینلز،کھاد پر سیلز ٹیکس نہ بڑھانے کا فیصلہ

Calender Icon جمعہ 1 مئی 2026

نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ(Federal Budget) کے حوالے سے حکومت نے اہم مالی فیصلے کر لیے ہیں، جن کے تحت مختلف شعبوں میں ٹیکس پالیسی میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق توانائی، زرعی اور تنخواہ دار طبقے سے متعلق ریلیف اقدامات کو بجٹ کا حصہ بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں اضافے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے اور اس پر موجودہ شرح برقرار رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا ہے۔

مزیدپڑھیں:درفشاں سلیم کا حج کے بعد جذباتی پیغام

اسی طرح کھاد پر بھی ٹیکس میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ زرعی شعبے کو سہارا دینے اور کسانوں کو اضافی لاگت سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ زرعی پیداوار میں کھاد کا بنیادی کردار ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر ملازمت پیشہ افراد کو کچھ مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدامات مجموعی طور پر عوامی ریلیف اور معاشی دباؤ میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں، تاہم بجٹ کی حتمی تفصیلات پیش ہونے کے بعد ہی اصل مالی سمت واضح ہو گی۔