بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے گورنر کویندر گپتا(kovindra gupta) نےمودی کی پاکستان دشمنی کے تحت چناب بیاس منصوبے کا اعلان کر دیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہماچل پردیش کے گورنر کویندر گپتا نے پیر کو شملہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھانا ضروری ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کی جانب ایک ضروری قدم ہے۔
بھارتی آبی جارحیت سنگین، چناب کا رخ راوی اور بیاس کی جانب موڑنے پر کام تیز
کویندر گپتا نے کہا کہ پنجاب، ہماچل، ہریانہ اور اتراکھنڈ کی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چناب بیاس منصوبہ تقریباََ 9 کلو میٹر لمبی سرنگ کی تعمیر کا پلان ہے جس پر 2 ہزار 325 کروڑ بھارتی روپے کی لاگت آئے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد دریائے چناب کے پانی کو سرنگ کے ذریعے دریائے بیاس میں منتقل کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت اس سرنگ کے ذریعے سالانہ 2 ملین ایکڑ فٹ پانی چناب سے موڑ لے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے پر کام کا آغاز 2026ء میں ہو چکا ہے جو کہ جولائی 2029ء تک مکمل ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں:کنگنا رناوت کا بالی ووڈ سے دوری کا راز کھل گیا ؟ جانیئے دلچسپ حقائق
یاد رہے کہ بھارت کا یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے واٹر کنونشن 1997ء، ویانا کنونشن کے آرٹیکل 60 اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔












بدھ 3 جون 2026 