جے یو آئی، چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج

Calender Icon جمعرات 4 جون 2026

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (پاکستان) نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے بعض دفعات کو قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 227 کے منافی قرار دیتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت میں شریعت پٹیشن سنیٹر کامران مرتضٰی(kamran murtaza) نے دائر کر دی ہے۔

درخواست میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام بچوں کے استحصال اور ظلم کی مکمل ممانعت کرتا ہے اور بچوں کے تحفظ کو اسلامی فریضہ قرار دیتا ہے۔* جے یو آئی کے مطابق قانون میں 18 سال سے کم عمر ہر فرد کو “بچہ” قرار دینا اسلامی فقہ میں بلوغت (Bulugh) کے اصول سے متصادم ہے۔

جہاں بلوغت کو قانونی اہلیت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شادی کے لیے 18 سال کی لازمی عمر مقرر کرنا اسلامی تعلیمات اور صدیوں پر محیط فقہی اتفاق رائے سے مطابقت نہیں رکھتا۔۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت کم از کم دو سال قید کی لازمی سزا اسلامی اصولِ تعزیر اور عدل کے منافی ہے کیونکہ اس میں عدالت کے صوابدیدی اختیار کو محدود کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق قانون میں نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات کو بعض صورتوں میں “چائلڈ ابیوز” قرار دینا اسلامی نکاح کے تصور اور ازدواجی حقوق سے متصادم ہے۔

پٹیشن میں والدین اور سرپرستوں کے خلاف جرم کا مفروضہ (Presumption of Guilt) قائم کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے اور اسے اسلامی اصولِ “براءتِ اصل” (Presumption of Innocence) کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

جے یو آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانون میں غیر معمولی حالات کے لیے کسی عدالتی استثنا (Judicial Exception) کا طریقہ کار موجود نہیں، حالانکہ متعدد مسلم ممالک میں ایسے قانونی انتظامات موجود ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کی بعض دفعات اسلامی خاندانی نظام، ولایت (سرپرستی) اور نکاح سے متعلق شرعی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔*درخواست میں عدالت سے استدعا۔

18 سال سے کم عمر افراد کی تعریف اور اس سے متعلق متنازع دفعات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔* لازمی سزاؤں میں عدالتی صوابدید شامل کی جائے۔* والدین اور سرپرستوں کے خلاف جرم کے مفروضے کو ختم کیا جائے۔

غیر معمولی حالات میں عدالتی اجازت کے ذریعے استثنا کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے۔* قانون کو قرآن و سنت اور اسلامی فقہی اصولوں کے مطابق ہم آہنگ بنایا جائے۔۔

مزید پڑھیں:گوادر، کنٹانی سے 4 پولیس اہلکار گاڑی سمیت اغوا، سرچ آپریشن جاری

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے مقصد سے اختلاف نہیں، تاہم قانون سازی کو اسلامی احکامات، آئینی تقاضوں اور شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ بچوں کے حقوق کے ساتھ اسلامی خاندانی نظام کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔