پاکستان نے گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی بیان مسترد کردیا

Calender Icon ہفتہ 6 جون 2026

پاکستان(Pakistan) نے گلگت بلتستان(Gilgit Baltistan) میں آئندہ انتخابات سے متعلق بھارت کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی دعوے حقائق کے منافی اور گمراہ کن پراپیگنڈے کا حصہ ہیں، جن کی پاکستان کسی صورت تائید نہیں کرتا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ان بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور انہیں غیر سنجیدہ اور بے بنیاد سمجھتا ہے۔

پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقے پر غیر قانونی طور پر قابض ہے، اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا حل طلب تنازع ہے، جس کی بنیاد 1947 میں بھارت کے ریاست جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضے سے پڑی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کا واحد راستہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد ہے، جن کے مطابق کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔

مزیدپڑھیں:صحارا صحرا میں دلخراش حادثہ، 50 افراد ہلاک

ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت کے گلگت بلتستان سے متعلق بے بنیاد دعوے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین مبینہ خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ پاکستان نے الزام عائد کیا کہ بھارتی افواج کو وہاں خصوصی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ ریاستی جبر کی ایک شکل ہے۔

پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ علاقے خالی کرے، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے، اور آزاد مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کو زمینی صورتحال تک رسائی دے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے استعمال کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔