خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک نفرتوں کو جنم دے گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

Calender Icon ہفتہ 6 جون 2026

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی (Sohail Afridi) نے وفاقی حکومت پر صوبے کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرزِ عمل سے احساسِ محرومی اور نفرتوں میں اضافہ ہوگا۔

پشاور میں ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام میں محفوظ خوراک کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام سے صحت بخش خوراک کی فراہمی کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا ابھی گندم میں خودکفیل نہیں، تاہم غذائی خود کفالت کے حصول کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ بجٹ میں محکمہ خوراک کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا جائے گا اور جدید گودام تعمیر کیے جائیں گے۔ ان کے بقول صوبہ 2030 تک کئی اہم شعبوں میں خودکفالت حاصل کر لے گا۔

وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی روک دی ہے اور متعدد خطوط ارسال کرنے کے باوجود کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ جب کم عوامی حمایت رکھنے والوں کو اقتدار دیا جاتا ہے تو وہ عوامی مفادات کے بجائے دیگر ترجیحات کو اہمیت دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں؛سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے ملاقات کی تصدیق کر دی

انہوں نے بتایا کہ سی آر بی سی منصوبے کے لیے صوبائی حکومت نے تین ارب روپے مختص کیے، جبکہ وفاقی حکومت نے ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا۔ اسی طرح ناردرن بائی پاس منصوبے کے لیے صوبائی حکومت نے چار ارب روپے کی برج فنانسنگ کی، لیکن پشاور بس ٹرمینل مکمل ہونے کے باوجود این ایچ اے تاحال رسائی کے راستے کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہا۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ سوات ڈیم منصوبہ مکمل طور پر تیار ہے، تاہم غیرملکی انجینئرز کے دورے کے لیے بھی وفاقی حکومت این او سی جاری نہیں کر رہی۔ انہوں نے اس صورتحال کو خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات صوبے میں احساسِ محرومی کو بڑھا سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اس کے استعمال پر پہلا حق حاصل ہے، لیکن وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو اس حق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی بندش سے سب سے زیادہ متوسط طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔