پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری (Uzma Bukhari) نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے حق میں عوامی جوش و خروش واضح طور پر نظر آ رہا ہے اور ہر طرف “شیر” کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگتی ہے، جبکہ اس کے مخالفین الزام تراشی اور منفی سیاست کے ذریعے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی میں مسلم لیگ (ن) کا کردار نمایاں ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں اس حوالے سے کوئی قابلِ ذکر کارکردگی پیش نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کا گلگت بلتستان میں ووٹ بینک نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے باوجود پارٹی رہنما گزشتہ کئی دنوں سے انتخابی مہم میں رکاوٹوں اور ممکنہ دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب تحریک انصاف اپنے مکمل امیدوار بھی میدان میں نہیں لا سکی تو وہ قبل از وقت دھاندلی کا واویلا کس بنیاد پر کر رہی ہے؟ ان کے بقول تحریک انصاف کے بیانیے بارہا ناکام ثابت ہو چکے ہیں اور عوام اب محض نعروں اور الزامات سے متاثر نہیں ہوتے۔
مزید پڑھیں؛عظمیٰ بخاری کی ایئرپورٹ واقعے پر اقرارالحسن کی حمایت، محسن نقوی سے اہلکار کیخلاف کارروائی کا مطالبہ
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ کرنا چاہتی ہیں تو انہیں کارکردگی کے میدان میں آنا ہوگا، کیونکہ جھوٹ اور پروپیگنڈے پر مبنی سیاست زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کو ترقی اور خوبصورتی کے اعتبار سے ملک کے بڑے شہروں کے برابر لانے کا عزم رکھتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گلگت بلتستان کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ہونے والے انتخابی عمل کو شفاف انتخابات قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ تحریک انصاف کو مساوی سیاسی مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔
اسد قیصر نے الزام لگایا کہ پارٹی کے انتخابی نشان سے لے کر سیاسی سرگرمیوں تک مختلف سطحوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور تحریک انصاف کے خلاف ہر ممکن حربہ استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق انتخابات کے نتائج پہلے سے طے شدہ محسوس ہوتے ہیں اور عوام کی رائے کو آزادانہ طور پر سامنے آنے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔
مزید پڑھیں؛مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری کیلئے 4 کروڑ گرانٹ کا نوٹیفکیشن جعلی قرار
انہوں نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری حکومتی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے لیے کل پولنگ ہوگی، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔












ہفتہ 6 جون 2026 