بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے

Calender Icon بدھ 10 جون 2026

پاکستان مسلم لیگ ن (Pakistan Muslim League-Nawaz)اور پاکستان پیپلزپارٹی (Pakistan People’s Party)کی قیادت میں ملاقات کے بعد وفاق اورصوبوں کے ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں کٹوتی پراتفاق ہوگیا ہے جس سے وفاقی بجٹ 2026-27ء کی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 5 بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس شام 4 بجے طلب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے مجوزہ ترقیاتی پروگرام میں126 ارب روپے کی کٹوتی کردی ہے،بلوچستان کے سوا باقی 3صوبے بھی اپنے ترقیاتی پروگراموںکے اخراجات میں کٹوتی کریں گے جس سے پید اہونے والی 500 ارب روپے کی بچت سے اسٹرٹیجک اہمیت کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔

ایکسپریس ٹریبیون نے جب اس بارے میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال سے رابطہ کیا تو انہوں نے وفاق کی طرف سے ایک ہزار126ارب کے ترقیاتی پروگرام میں سے 126ارب کی کٹوتی کی تصدیق کی ۔

ذرائع کے مطابق وفاق نے قابل تقسیم محاصل میں صوبوں سے تقریباً 1200ارب روپے اضافی وسائل مانگے تھے جن میں پنجاب سے 650 ارب،سندھ سے 300ارب، خیبرپختونخوا سے180ارب اور بلوچستان سے 110ارب روپے مانگے تھے تاہم اب بلوچستان کے ترقیاتی پرو گرام سے کوئی کٹوتی نہیں ہوگی کیونکہ بلوچستان کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 308 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جوپہلے ہی موجودہ مالی سال سے 53 ارب روپے کم ہے۔

مزیدپڑھیں:کتنے فیصد پاکستانی خریداری میں اے آئی سے مدد لیتے، رپورٹ آ گئی

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت قابل تقسیم محاصل میں سے صوبوں کومجموعی طور پر8200ارب روپے دینے کی خواہاں ہے جبکہ موجودہ فارمولے کے تحت صوبوں کا حصہ9400 ارب روپے بنتا ہے ۔

حکومت پنجاب نے وفاق کوبتایا تھا کہ وہ اگلے مالی سال کے دوران ترقیاتی پروگرام پر ایک ہزار 450 ارب روپے خرچ کرنا چاہتی ہے تاہم اب اس میں 150ارب کی کٹوتی کی توقع ہے۔

سندھ حکومت نے 816 ارب کے ترقیاتی پروگرام کا تخمینہ لگایا تھا،اب وہ بھی اسے کم کریگی ۔خیبرپختونخوا حکومت 564 ارب روپے ترقیاتی کاموں پرخرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ،وہ بھی اپنے ترقیاتی اخراجات کو فریزکرسکتی ہے۔

ایک سرکاری عہدیدار نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ اگر صوبے اپنے بجٹ میں سے 350 ارب روپے وفاق کو دینے پر تیارہوجاتے ہیں تو وفاق کا ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے سے بڑھا کر ایک ہزار400 ارب روپے کیا جاسکتا ہے ۔

وفاقی حکومت صوبوں سے ملنے والی اضافی رقم میں سے 335 ارب پانی کے منصوبوں جن میں دیامربھاشا ڈیم،مہمندڈیم اورداسو ڈیم شامل ہیں پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔اس میں سے بچ جانے والی رقم دفاعی اہمیت کے منصوبوں پر خرچ کی جائیگی۔

آئی ایم ایف دفاع کیلئے 2 ہزار665 ارب کے اخراجات پر راضی ہے لیکن حکومت مغربی سرحدی صورتحال کو دیکھتے ہوئے دفاع کیلئے تین ہزار ارب روپے رکھنا چاہتی ہے۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ہورہاہے جس میں تمام فیصلے کیے جائیں گے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلی،وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت دیگرحکام شریک ہونگے۔

وزیراعظم کی منظوری سے پی ایس ڈی پی کا حجم 1326 ارب کیا جا سکتا ہے، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے بعد اکنامک سروے کل پیش کیاجائے گا اسکے بعد جمعہ کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری کے ساتھ ساتھ بجٹ مسودے کی بھی منظوری دی جائے گی۔

وفاقی وزیرمنصوبہ بندی واصلاحات احسن اقبال کا کہنا ہے کہ وفاق کی طرف سے ایک ہزار ارب کا ترقیاتی پروگرام قومی اقتصادی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔

صوبے بھی دفاع اور وزارت داخلہ کے منصوبوں کیلئے رقم کی گنجائش نکالیں گے ۔حکومت نے نئے این ایف سی ایوارڈ کیلئے مختلف ورکنگ گروپ قائم کئے ہیں جن کے اجلاس بھی ہوئے ہیں مگر ابھی تک اس پر اتفاق نہیں ہوسکا اور این ایف سی میں تبدیلی کیلئے قانون سازی یا صوبوں کی رضامندی لازمی ہے جس کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان نئے وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔

نئے بجٹ آئی ایم ایف کو بھی آن بورڈ لیا جائے گا کیونکہ عالمی ادارے نے یہ شرط لگا رکھی ہے کہ بجٹ کو قومی اسمبلی سے منظورکرانے سے قبل اس سے توثیق کرائی جائے تاکہ ملک میں جو مالیاتی استحکام آرہا ہے وہ متاثرنہ ہو ۔

وفاقی حکومت تنخواہ دارطبقے کے علاوہ اگلے بجٹ میں کارپوریٹ سیکٹرکو بھی ریلیف دینا چاہتی ہے جس کیلئے کم ازکم ٹرن اوورٹیکس کی شرح میں 1.25 فیصدکمی کی جائے گی جس سے اس طبقے کو65 ارب روپے کا ریلیف ملے گا تاہم اس کا انحصارمالیاتی گنجائش پر ہے۔اگلے بجٹ میں40 کروڑ روپے کی انفرادی آمدن اور کمپنیوں پر8 فیصد کی شرح سے سپرٹیکس ختم کرنے کی بھی تجویزہے۔

جس سے انہیں100 ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔ حکومت برآمدکنندگان کو بھی 80 ارب روپے کا ریلیف دینا چاہتی ہے ،یہ تمام پیکج آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔

اگلے مالی سال کیلئے معاشی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد رکھنے کا تخمینہ ہے اور اجلاس میں اوسط مہنگائی کا تخمینہ 8.2فیصد مقرر کرنے کی منظوری متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی سات سے دس فیصد تک اضافے کا امکان ہے، حتمی فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں ہوگا ،اتحادی جماعتوں کا دباؤ بڑھا تو یہ اضافہ پندرہ فیصد تک جاسکتا ہے۔

وفاقی بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد ،سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کئے جانے کا بھی امکان ہے، نئے بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی بھی تجویز ہے ،کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔