ناروے کی ولی عہد شہزادی میٹ میرٹ کے بیٹے ماریئس بورگ ہوئیبی (Marius Borg Hoiby)کو جنسی زیادتی کے 2 مقدمات میں 4 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اوسلو کی عدالت نے 29 سالہ ماریئس بورگ ہوئیبی کو جنسی زیادتی کے 2 الزامات میں قصور وار قرار دے دیا اور اب عدالت کے اس فیصلے کے بعد وہ سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ماریئس بورگ ہوئیبی کو پہلی مرتبہ اگست 2024ء میں اوسلو کے علاقے فروگنر میں گھریلو تشدد کے ایک واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
بعد ازاں پولیس نے ان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مجموعی طور پر 40 الزامات کی چھان بین کی، جن میں ریپ، منشیات سے متعلق جرائم اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
ماریئس بورگ ہوئیبی پر اگست 2025ء میں باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کی گئی جس کے بعد 3 فروری 2026ء سے شروع ہونے والا مقدمہ تقریباً 7 ہفتوں تک جاری رہا۔
مزیدپڑھیں:ناصر مدنی صاحب! آپ نے منبر پر بیٹھ کر مجھ پر لگائی گئی تہمت کو ہوا دی: مومنہ اقبال
استغاثہ نے عدالت سے ملزم کے خلاف 7 سال 7 ماہ کی قید اور 5 لاکھ 80 ہزار نارویجن کرونر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی تھی، لیکن عدالت نے 4 سال قید کی سزا سنائی۔
واضح رہے کہ ماریئس بورگ ہوئیبی 13 جنوری 1997ء کو ناروے کے شہر کرسٹیان سینڈ میں پیدا ہوئے تھے، وہ ناروے کی ولی عہد شہزادی میٹ میرٹ اور ان کے سابق پارٹنر مورٹن بورگ کے بیٹے ہیں۔
شہزادی میٹ میرٹ نے 2001ء میں ناروے کے ولی عہد ہاکون سے شادی کر لی تھی، جبکہ ماریئس بورگ ہوئیبی کے پاس نہ تو کوئی شاہی لقب ہے اور نہ ہی وہ شاہی جانشینی کی فہرست میں شامل ہیں۔












منگل 16 جون 2026 