امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں استحکام کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی اور خام تیل کی سپلائی معمول پر آنے کی توقعات کے باعث برینٹ خام تیل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد برینٹ خام تیل 44.79 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 48 روپے 29 پیسے کمی
معاشی اور توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کے باعث آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کم ہوئے ہیں، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد جاری رہا تو خام تیل کی فراہمی مزید بہتر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کی صورت میں عالمی منڈی ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا مثبت اثر پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں بھی کچھ حد تک کمی آنے کی توقع ہے۔












پیر 22 جون 2026 