دشت، گوگل میپ کی غلط رہنمائی، زندگی کا سب سے بڑا سانحہ کیسے بن گئی۔۔؟؟

Calender Icon اتوار 28 جون 2026

بلوچستان کے علاقے دشت میں راستہ بھولنے والے کراچی کے خاندان پر دہشت گردوں(Terrorist attack) کی اندھا دھند فائرنگ، شوہر جاں بحق، اہلیہ زخمی، دو کمسن بیٹیاں معجزانہ طور پر محفوظ۔

مستونگ ، بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں دہشت گردی اور سفاکی کی ایک دل دہلا دینے والی واردات سامنے آئی ہے جہاں کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک معصوم خاندان، جو صرف ایک غلط راستے کا شکار ہوا، دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بن گیا، فائرنگ کے نتیجے میں گھر کا سربراہ جاں بحق اور اہلیہ شدید زخمی ہو گئیں، گاڑی میں موجود دو معصوم بچیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق، کراچی کا رہائشی علی جمیل اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ سفر پر تھا کہ مبینہ طور پرگوگل میپ کی غلط رہنمائی کے باعث یہ خاندان اپنا اصل راستہ بھول گیا، راستہ بھٹکنے کے بعد یہ خاندان مستونگ کے غیر محفوظ اور انتہائی حساس علاقے دشت کے مقام کھنڈ پہنچ گیا، جہاں گھات لگائے بیٹھے سفاک دہشت گردوں نے مسافر گاڑی کو دیکھتے ہی اس پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

بتایا گیا ہے کہ وحشیانہ فائرنگ کی زد میں آ کر گاڑی چلانے والے علی جمیل گولیوں کے شدید زخم لگنے کے باعث موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جس سے گاڑی وہیں رک گئی، ان کی اہلیہ گولیوں کا نشانہ بن کر شدید زخمی ہوئیں، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس بدترین دہشت گردی کے واقعے میں فائرنگ کے اس ہولناک طوفان میں دونوں بچیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔

سوشل میڈیا اور میڈیا پر سامنے آنے والی ان خوفزدہ اور سہمے ہوئے بچیوں کی تصویر نے ہر دیکھنے والی آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو لرزا کر رکھ دیا ہے، جو اپنے ماں باپ کے خون کے سامنے گاڑی میں محصور رہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری دشت کھنڈ کے علاقے میں پہنچ گئی اور لاش و زخمی خاتون کو ہسپتال منتقل کیا، پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر بزدل دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ۔

مزید پڑھیں:معروف تاجر محمد ہاشم نورزئی کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا

دوسری جانب کراچی اور بلوچستان میں اس واقعے پر شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے، شہریوں نے کہا ہے کہ امن و امان کی ایسی صورتحال میں مسافروں کا یوں سرِعام قتلِ عام ریاست کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔