قومی احتساب بیورو نے کرپشن اور پیچیدہ مالیاتی جرائم کی تحقیقات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی تفتیشی نظام(Investigation systems) تیار کرلیا۔
تفتیش میں مددگار اے آئی پورٹل نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد تفتیشی افسران کو پیچیدہ مالیاتی معاملات کی جانچ میں مؤثر معاونت فراہم کرنا ہے۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نظام بڑے پیمانے پر مالیاتی ڈیٹا، بینک ریکارڈ، ٹرانزیکشنز، کمپنیوں کے ریکارڈ اور دیگر دستاویزات کا چند منٹوں میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے مشکوک مالی لین دین، مختلف اکاؤنٹس اور افراد کے درمیان روابط کی نشاندہی اور مالیاتی نیٹ ورکس کا تجزیہ بھی ممکن ہوگا۔
نیب حکام کے مطابق اے آئی پورٹل کو ادارے کے موجودہ قوانین اور تفتیشی طریقہ کار سے ہم آہنگ بنایا گیا ہے تاکہ حاصل ہونے والے تجزیاتی نتائج قانونی تقاضوں کے مطابق ہوں۔
مزید پڑھیں:صوبائی مشاورت سے جامع قومی زرعی پالیسی جلد مرتب کی جائےگی: وزیراعظم
حکام کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت ابتدائی تجزیے، ڈیٹا کی درجہ بندی اور رپورٹس کی تیاری میں معاون ثابت ہوگی تاہم تفتیش، شواہد کی جانچ اور قانونی کارروائی کا حتمی اختیار متعلقہ تفتیشی افسران کے پاس ہی رہے گا۔ چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد مصنوعی ذہانت پر مشتمل تفتیشی نظام فعال کر دیا جائے گا۔












پیر 29 جون 2026 