گرمی میں ٹھنڈک اور بجلی کا بل آدھا؛ اے سی چلا کر پیسوں کی بڑی بچت کا طریقہ جانیے

Calender Icon اتوار 5 جولائی 2026

شدید گرمی میں ایئر کنڈیشنر(AC) لوگوں کے لیے بڑی سہولت بن چکا ہے، لیکن ہر سال بجلی کے بڑھتے بل صارفین کو پریشان کر دیتے ہیں۔ ایسے میں اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ گھر سے باہر جاتے وقت اے سی مکمل طور پر بند کرنا بہتر ہے یا اسے چلتا رہنے دینا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا ایک ہی جواب ہر جگہ کے لیے درست نہیں، بلکہ اس کا انحصار موسم، گھر کی ساخت اور اے سی کی قسم پر ہوتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مختلف شعبوں کے تین ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص کئی گھنٹوں کے لیے گھر سے باہر جا رہا ہو تو اے سی بند کرنے کے بجائے تھرموسٹیٹ کا درجہ حرارت معمول سے چند ڈگری زیادہ کر دینا زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ اس سے بجلی کی بچت بھی ہوتی ہے، گھر میں نمی بھی قابو میں رہتی ہے اور واپسی پر گھر کو دوبارہ ٹھنڈا کرنے میں بھی کم وقت لگتا ہے۔

مزیدپڑھیں:شان مسعود کی چھٹی، بابراعظم قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مقرر

امریکا کے محکمہ توانائی کے مطابق اگر روزانہ تقریباً آٹھ گھنٹے کے لیے تھرموسٹیٹ کا درجہ حرارت 7 سے 10 ڈگری فارن ہائیٹ، یعنی تقریباً 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھا دیا جائے تو ایک سال میں ٹھنڈک اور ہیٹنگ پر آنے والے اخراجات میں تقریباً 10 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

اسٹونی بروک یونیورسٹی کی شہری منصوبہ بندی کی ماہر پروفیسر الزبتھ ہیوٹ کا کہنا ہے، اگر آپ صرف پندرہ منٹ کے لیے بازار جا رہے ہیں تو اے سی بند کرنے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔“ تاہم ان کا کہنا تھا، “اگر آپ تقریباً آٹھ گھنٹے کے لیے دفتر جا رہے ہیں تو عام طور پر اے سی کی سیٹنگ بڑھا دینا یا مناسب حالات میں اسے بند کرنا توانائی اور پیسے دونوں کی بچت کرتا ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ علاقوں میں موسم الگ ہوتا ہے، جیسے فلیٹ یا کھڑکی والے اے سی کم کارآمد ہوتے ہیں کیونکہ کھڑکیوں سے گرم ہوا اندر آتی ہے، اس لیے کھڑکیوں کے آس پاس سستا فوم لگا کر گرم ہوا کو روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ایک اور زبردست بات بتائی کہ صرف گھر کے پردے بند رکھنے سے بھی گھر کے درجہ حرارت میں کئی ڈگری کا فرق پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خشک علاقوں میں گھر کا درجہ حرارت کچھ زیادہ بڑھنے دیا جا سکتا ہے، لیکن مرطوب علاقوں میں اے سی کو زیادہ دیر بند رکھنے سے گھر کے اندر نمی بڑھ سکتی ہے، جس سے پھپھوندی بننے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے اور بعد میں گھر کو ٹھنڈا کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر پیٹرک فیلن کا کہنا ہے، تھرموسٹیٹ کا درجہ حرارت صرف ایک ڈگری فارن ہائیٹ بڑھانے سے بھی کولنگ کے اخراجات میں تقریباً تین فیصد تک بچت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، اگر اے سی کو کئی گھنٹے بند رکھنے کے بعد دوبارہ چلایا جائے تو مشین پر زیادہ دباؤ پڑ سکتا ہے اور وہ جلدی خراب ہوسکتی ہے کیونکہ اسے پوری رفتار سے چلنے میں پندرہ سے تیس منٹ لگ سکتے ہیں، جس سے وقت کے ساتھ مرمت کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر کے آرکیٹیکچرل انجینئرنگ کے پروفیسر گریگور ہینزے کے مطابق بجلی کی بچت کا انحصار گھر کی تعمیر پر بھی ہوتا ہے۔ ان کے بقول، کنکریٹ یا اینٹوں سے بنے گھروں میں ٹھنڈک زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے، جبکہ پرانے اور ایسے گھر جہاں سے ہوا گزرتی ہو وہ جلدی گرم ہو جاتے ہیں۔ ایسے گھروں میں چند گھنٹوں کے لیے باہر جانے پر بھی تھرموسٹیٹ کی سیٹنگ تبدیل کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

انہوں نے ایک پرانا اور آزمودہ طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ رات کے وقت جب باہر کا موسم ٹھنڈا ہو تو گھر کی کھڑکیاں کھول دینی چاہئیں تاکہ قدرتی ٹھنڈی ہوا اندر آ سکے، لیکن یہ طریقہ صرف خشک علاقوں کے لیے اچھا ہے، جہاں زیادہ حبس یا نمی ہو وہاں رات کو کھڑکیاں کھولنے سے گھر میں سِلن آ جاتی ہے جسے دور کرنے کے لیے بعد میں اے سی کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے سی کی قسم بھی بجلی کی کھپت پر اثر ڈالتی ہے۔ ونڈو اے سی عام طور پر سینٹرل ایئر کنڈیشننگ کے مقابلے میں کم مؤثر ہوتے ہیں کیونکہ کھڑکی کے ذریعے گرم ہوا اندر آنے کے امکانات زیادہ رہتے ہیں۔

ماہرین نے اسمارٹ تھرموسٹیٹ کو بھی مفید قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جدید نظام گھر میں لوگوں کی موجودگی کو محسوس کر کے خودکار طور پر درجہ حرارت کم یا زیادہ کر دیتا ہے، جس سے بار بار سیٹنگ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

پیٹرک فیلن کے مطابق، ”اگر کوئی شخص عام تھرموسٹیٹ کی جگہ اسمارٹ تھرموسٹیٹ استعمال کرے تو وہ تقریباً دس فیصد تک اضافی توانائی کی بچت حاصل کر سکتا ہے۔“

ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کا بل کم کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ ہر گھر پر لاگو نہیں ہوتا، لیکن زیادہ تر حالات میں گھر سے باہر رہنے کے دوران اے سی کا درجہ حرارت چند ڈگری بڑھا دینا توانائی، اخراجات اور آرام کے درمیان بہترین توازن ثابت ہو سکتا ہے۔