آئندہ 10 سال فیصلہ کن ہیں اور بروقت اقدامات سے پاکستان وسطی ایشیا، چین اور بحیرہ عرب کے درمیان اہم معاشی پل بن سکتا ہے
ایمپیک اسٹریٹجیز کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں سے ٹرانزٹ اور لاجسٹکس کی مد میں سالانہ 3 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کر سکتا ہے۔
اسلام آباد میں ایمپیک اسٹریٹیجیز کی تحقیقاتی رپورٹ تجارت، مہارت، سیاحت اور ٹرانزٹ انضمام کے لیے اسٹریٹجک فریم ورک 35-2026 کی لانچنگ تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی تھے۔
ایمپیک اسٹریٹیجیز کی تحقیقاتی رپورٹ میں پاکستان کو وسطی ایشیا کے پانچ ممالک قازقستان، ازبکستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے لیے تجارت، توانائی، سیاحت، ہنرمند افرادی قوت، لاجسٹکس اور ٹرانزٹ کا ترجیحی جنوبی گیٹ وے بنانے کا روڈ میپ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان 2024 میں مجموعی دوطرفہ تجارت تقریباً 525 ملین ڈالر رہی جو خطے کی معاشی استعداد کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، دوطرفہ تجارت کو 2035 تک 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں تجارت، توانائی، سیاحت، انسانی وسائل، لاجسٹکس اور ٹرانزٹ انضمام کو معاشی تعاون کے پانچ بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آئندہ 10 سال فیصلہ کن ہیں اور بروقت اقدامات سے پاکستان وسطی ایشیا، چین اور بحیرہ عرب کے درمیان اہم معاشی پل بن سکتا ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تقریب سے خطاب میں نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے اور خطے کی بدلتی ہوئی معاشی ضروریات کے مطابق انسانی وسائل کی تیاری کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق حکومت زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ہنرمند بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
سابق چیئرپرسن نیوٹیک گلمینہ بلال احمد نے کہا کہ پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کو وسطی ایشیا کی صحت، تعمیرات، کان کنی، آئی ٹی، زراعت اور ہوٹلنگ کے شعبوں کی ضروریات سے جوڑنے کی ضرورت ہے، مہارتوں کی تصدیق، اسکلز ڈپلومیسی اور دوطرفہ لیبر معاہدے نئے معاشی مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔
مزید پرھیں:وفاق کو صاف بتادیا فاٹا اور پاٹا کوئی ٹیکس نہیں دیگا، گورنر خیبرپختونخوا
ایمپیک اسٹریٹیجیز کے عزیز احمد نے کہا کہ پاکستان کو صرف اپنی برآمدات بڑھانے کے بجائے وسطی ایشیا کے لیے تجارت، توانائی، سیاحت، ہنرمند افرادی قوت، لاجسٹکس اور ٹرانزٹ کا ترجیحی جنوبی گیٹ وے بننا ہوگا۔












بدھ 15 جولائی 2026 


