امریکی حکومت نے پاکستان کے 85 طلبہ و محققین کو امریکا کی جامعات میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے فل برائٹ اسکالرشپس دے دی ہیں۔
پاکستان میں امریکی حکومت کے فلیگ شپ تعلیمی تبادلے کے پروگرام فل برائٹ کا انتظام یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان (USEFP) کرتا ہے۔
امریکا اور پاکستان کی حکومتیں مشترکہ طور پر اس پروگرام کی مالی معاونت کرتی ہیں، جس کا مقصد پاکستانی طلبہ کو ملکی اور خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کو عالمی معیار کے اساتذہ اور جدید ترین تحقیقی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ پروگرام دونوں ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے والے تعلقات استوار کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
امریکا میں تعلیم کے لیے روانگی کی تیاری کے سلسلے میں USEFP نے اسلام آباد میں دو روزہ پری ڈیپارچر اورینٹیشن بھی منعقد کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہالس نے کہا کہ پاکستان دنیا کے سب سے بڑے فل برائٹ پروگرامز میں سے ایک کا میزبان ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری کا براہ راست نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی تبادلہ سفارت کاری کی سب سے مؤثر شکلوں میں سے ایک ہے اور اس پروگرام کے ہر طالب علم نے اپنی محنت، صلاحیت اور عزم کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا ہے۔
اینڈی ہالس کا کہنا تھا کہ امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کے موقع پر امریکا اور پاکستان کے تعلقات کے ایک نئے باب کا بھی آغاز ہورہا ہے، جسے یہ طلبہ آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ نئی شراکت داریاں قائم کریں گے، جدت کو فروغ دیں گے اور آئندہ 250 برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت تشکیل دینے میں کردار ادا کریں گے۔
2026 کے فل برائٹ اسکالرشپ حاصل کرنے والوں کا تعلق پاکستان کے تمام صوبوں سے ہے اور وہ انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، کاروبار، مالیات، پبلک پالیسی اور سماجی علوم سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کریں گے۔
اس سال 71 طلبہ ماسٹرز اور 14 طلبہ پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے منتخب ہوئے ہیں، جبکہ 6 فل برائٹ فارن لینگویج ٹیچنگ اسسٹنٹ یعنی FLTA فیلوز بھی اس موسم خزاں میں تعلیمی تبادلے کا آغاز کریں گے۔
USEFP کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر پیٹر موران نے کہا کہ فل برائٹ پروگرام اہم شعبوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ امریکی کمیونٹیز سے روابط، ثقافتی تجربات کے تبادلے اور پاکستانیوں و امریکیوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیتا ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سے اس پروگرام میں سرمایہ کاری کے اثرات اسکالرشپ کی مدت سے کہیں آگے تک جاری رہتے ہیں۔ فل برائٹ کے سابق طلبہ پاکستان واپس آکر بہتر پیشہ ورانہ مہارت، مضبوط تحقیقی صلاحیت اور اپنی کمیونٹیز و اداروں کی خدمت کے عزم کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
پاکستان میں فل برائٹ پروگرام کا انتظام USEFP کرتا ہے، جو امریکا اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے 1950 میں قائم کیا گیا ایک دو طرفہ کمیشن ہے۔
مزید پڑھیں:میکسیکو میں 7.4 شدت کا زلزلہ، سونامی وارننگ جاری، ہمسایہ ممالک لرز اٹھے
2005 سے اب تک تقریباً 3 ہزار پاکستانیوں کو امریکی حکومت کے اس پروگرام کے تحت فل برائٹ اسکالرشپس مل چکی ہیں، جس کے باعث یہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے مؤثر تعلیمی شراکت داری بن چکا ہے۔












جمعہ 17 جولائی 2026 


