عالمی منڈی میں تیل مہنگا، قیمتوں کے فیصلے مشکل ہوگئے، علی پرویز ملک

Calender Icon جمعرات 23 جولائی 2026

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک (Ali Pervaiz Malik) نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک جانب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا ہے تو دوسری جانب پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے مارجن میں اضافے کا مطالبہ بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق ڈیلرز چاہتے ہیں کہ مارجن 8 فیصد تک بڑھایا جائے، جبکہ جنگ سے قبل عائد کی جانے والی پیٹرولیم لیوی بھی موجودہ سطح سے زیادہ تھی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ اگر ایک طرف عالمی منڈی میں قیمتوں کا شدید دباؤ ہو اور دوسری طرف پیٹرول پمپس بھی احتجاج یا دباؤ کی پالیسی اختیار کریں تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹس شاید اس خدشے کا اظہار کر رہی ہیں کہ مستقبل میں پیٹرول کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، اسی لیے قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ علاقائی حالات میں پاکستان اکیلے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ حکومت روزانہ کی بنیاد پر عالمی منڈی کی صورتحال کا جائزہ لے کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر رہی ہے اور مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کو تمام تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں۔

مزیدپڑھیں:ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں

ریفائنری پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت مقامی ریفائنریوں کو فعال رکھ کر خام تیل درآمد کر رہی ہے تاکہ ملک میں تیار ہونے والا ڈیزل عوام کو فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ڈیزل کی درآمدات پر انحصار کم سے کم ہو اور اسی مقصد کے لیے ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق نئی پالیسی بھی ارسال کر دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2002 تک ملک کی ریفائنریاں آئی پی پی ماڈل پر چلتی تھیں اور اگر آج یہ ریفائنریاں موجود نہ ہوتیں تو موجودہ بحران کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے ریفائنری پالیسی کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ ڈی ایم ڈیوٹی میں ہر چھ ماہ بعد 2.5 فیصد کمی کی جائے گی تاکہ ریفائنری سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔

اس سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور عالمی خام تیل کی منڈی شدید بے یقینی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت بعض اوقات مجبوری کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوتی ہے، جبکہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔

if you want to create more options then add new post