کینسر کی 9 ادویات مت خریدیں، سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ سامنے آگئی

Calender Icon ہفتہ 25 جولائی 2026

کراچی: سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی9 ادویات کو جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ قرار دیتے ہوئے تشویشناک انکشافات سامنے رکھ دیے ہیں۔

ڈائریکٹر سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سید عدنان رضوی کے مطابق لیبارٹری کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض کینسر ادویات میں مطلوبہ فعال جزو (ایکٹو اِنگریڈینٹ) موجود ہی نہیں تھا، جس کے باعث ان ادویات کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق بعض ادویات پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کا رجسٹریشن نمبر بھی درج نہیں تھا، جو ادویات کے قانونی اور معیاری ہونے کے حوالے سے اہم شرط ہے۔

مزید پڑھیں:مینڈک کی آنت میں موجود بیکٹیریا مہلک کینسر کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے

سید عدنان رضوی کا کہنا تھا کہ بعض آنکولوجسٹ اپنے نسخوں پر مخصوص فارمیسیوں کا نام بھی درج کرتے ہیں، جس کے باعث اس معاملے کی مزید چھان بین کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو محفوظ اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جعلی اور غیر معیاری کینسر ادویات مریضوں کی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایسی ادویات کے استعمال سے نہ صرف علاج مؤثر نہیں رہتا بلکہ بیماری کے مزید بڑھنے اور پیچیدگیوں میں اضافے کا بھی خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

ڈائریکٹر سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات کی تیاری، فروخت اور تقسیم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مریضوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو چاہیے کہ وہ کینسر سمیت دیگر سنگین بیماریوں کی ادویات صرف مستند فارمیسیوں سے خریدیں اور دوا کی پیکنگ، رجسٹریشن نمبر اور دیگر ضروری معلومات کی تصدیق ضرور کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔