اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اہم قانونی ریلیف دیتے ہوئے ان کی سزا معطلی کی درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دے دیا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے پراسیکیوشن کی جانب سے دائر متفرق درخواست مسترد کر دی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں ناقابلِ سماعت قرار دیا جائے۔
عدالت نے پراسیکیوشن کا یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کے لیے قابلِ قبول ہیں، جس کے بعد ان درخواستوں پر کارروائی جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں:ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سرینا چوک اسلام آباد سے گرفتار
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تاہم سزا معطلی کی درخواستوں کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز عدالت نے پراسیکیوشن کی متفرق درخواست پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جسے آج جاری کر دیا گیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کی جانب سے درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دینا ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس کے بعد سزا معطلی سے متعلق قانونی نکات پر باقاعدہ سماعت کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
اب اس مقدمے میں عدالت آئندہ سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دلائل کی روشنی میں سزا معطلی کی درخواستوں پر مزید کارروائی کرے گی۔













ہفتہ 25 جولائی 2026 

