52 نئی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی منظوری، کینسر اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بڑی پیش رفت

Calender Icon ہفتہ 25 جولائی 2026

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ملک میں 52 نئی رجسٹرڈ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے دی ہے، جسے کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا، پارکنسن اور دیگر سنگین امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر صحت **مصطفیٰ کمال، سیکریٹری صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے حکام اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں:کینسر کی 9 ادویات مت خریدیں، سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ سامنے آگئی

اجلاس میں منظور کی جانے والی ادویات میں کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا اور پارکنسن سمیت مختلف جان لیوا بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی جدید ادویات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان ادویات کی قیمتوں کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی، جس کے بعد ڈریپ باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا اور یہ ادویات قانونی طور پر پاکستان میں فروخت کی جا سکیں گی۔

منظور شدہ ادویات میں کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جدید امیونو تھراپی دواکی ٹروڈا (Keytruda) بھی شامل ہے، جو دنیا بھر میں 20 سے زائد اقسام کے کینسر کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نیوولومیب، ڈاساتینیب، میروپینم اور انسولین سمیت متعدد اہم ادویات بھی منظوری کی فہرست کا حصہ ہیں۔

اجلاس کے دوران وزارت صحت نے مریضوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ادویات کی قیمتوں کی فوری منظوری کی ضرورت پر زور دیا۔ حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں کے تعین کا عمل شفاف، عوامی مفاد پر مبنی اور بروقت ہونا چاہیے۔

حکام کے مطابق قیمتوں کی منظوری میں تاخیر کے باعث مریض غیر رجسٹرڈ، اسمگل شدہ یا مہنگی درآمدی ادویات خریدنے پر مجبور تھے۔ نئی منظوری سے معیاری ادویات کی دستیابی میں بہتری آئے گی، غیر قانونی سپلائی پر انحصار کم ہوگا اور مریضوں کو محفوظ اور رجسٹرڈ ادویات تک آسان رسائی حاصل ہو سکے گی۔