آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ کامیاب:سازشیوں کو منہ کی کھانا پڑی

Calender Icon پیر 27 جولائی 2026

 آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ 18 ماہ سے جاری سیاسی بے چینی اور ہڑتالوں کے باعث ریاست کی سیاحت اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ناخوشگوار حالات کی وجہ سے سیاحت میں 68 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مقامي افراد کو 167 ارب روپے اور سرمایہ کاروں کو شامل کر کے مجموعی طور پر تقریباً 250 ارب روپے کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

سماجی اور معاشی اعشاریوں کا تقابل:عوامی سطح پر اٹھائے جانے والے مختلف مطالبات اور تحفظات کے برعکس آزاد کشمیر کے سماجی اعشاریے مقبوضہ کشمیر کی نسبت نمایاں طور پر بہتر ہیں۔

غربت اور تعلیم: آزاد کشمیر میں غربت کی شرح 22 فیصد ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں یہ 49 فیصد ہے۔ تعلیمی شرحِ خواندگی آزاد کشمیر میں 77 فیصد ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 67 فیصد ہے۔

صحت اور کمیونیکیشن: آزاد کشمیر میں فی 314 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر میسر ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 660 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر میں سو فیصد ٹیلی کام کوریج فراہم کی جا چکی ہے۔

مہاجرین کی 12 نشستوں کی آئینی اہمیت:قانون ساز اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1947ء، 1965ء، 1971ء اور بعد کے سالوں میں آنے والے مہاجرین کی آئینی نمائندگی کی ضامن ہیں۔ اگر ان نشستوں کو ختم کیا گیا تو اس سے آئینی اور سیاسی تحفظات پیدا ہوں گے، جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 24 نشستیں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔

بجلی، آٹا سبسڈی اور تعلیمی سہولیات:حکومتی ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے شہریوں کو بجلی اور بنیادی اشیاء پر نمایاں سبسڈیز فراہم کی جا رہی ہیں

بجلی کے نرخ: 100 یونٹ تک بجلی صرف 3 روپے فی یونٹ دی جا رہی ہے جبکہ کمرشل یونٹ 10 سے 15 روپے میں دستیاب ہے۔

آٹا سبسڈی: آزاد کشمیر میں آٹے کا سبسڈی والا تھیلا 2,000 روپے میں دستیاب ہے جبکہ دیگر علاقوں میں اس کی قیمت زیادہ ہے۔

بجلی کا انفراسٹرکچر: بجلی کی قیمتوں کا تعین نہ صرف پیداواری لاگت بلکہ ٹرانسمیشن، تقسیم اور مرمت کے اخراجات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

تعلیمی و صحتی مراعات: پنجاب کی 22 یونیورسٹیوں میں کشمیری طلبہ کے لیے 125 اور میڈیکل کالجوں میں 36 نشستیں مختص ہیں، جبکہ 75 کروڑ روپے کا کشمیر ایجوکیشنل اینڈومنٹ فنڈ بھی قائم ہے۔ آزاد کشمیر بورڈ کے یتیم طلبہ کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے اور سی ایم ایچ (CMH) و دیگر عسکری صحت کے مراکزمیں علاج کی سہولت میسر ہے۔

انفراسٹرکچر پروجیکٹس:مظفرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے اپریل 2025ء سے زمین کے حصول پر کام جاری ہے جو کہ اب تکمیل کے قریب ہے، جبکہ میرپور میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی فزیبلٹی رپورٹ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں عوام کی شمولیت سے ریاست میں جمہوریت، پرامن فضا اور معاشی استحکام کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔