سندھ ہماری ریڈ لائن، سندھو دیش کی تقسیم قبول نہیں: پاکستان پیپلز پارٹی

Calender Icon منگل 28 جولائی 2026

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ سندھ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، پیپلزپارٹی نےکبھی سندھ کو انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنےکی حمایت نہیں کی، نہ کبھی کرےگی۔

سعدیہ جاوید نے کہا کہ ملک میں مہنگائی ہے، معاشی بحران ہے، انتظامی یونٹس کو چلانے کے لیے پیسے کہاں سے لائیں گے؟ ملک کے معاشی حالات اجازت نہیں دیتے کہ مزید انتظامی یونٹس بنیں۔

سعدیہ جاوید نے کہا کہ انتظامی یونٹس کا معاملہ ایم کیوایم کا سیاسی اسٹنٹ ہے، مصطفیٰ کمال ڈھائی سال سے وزیر صحت ہیں، انہوں نے اپنے ووٹرز کے لیے کبھی آواز اٹھائی؟ خالد مقبول صدیقی نے کوئی یونیورسٹی بنائی؟ کوئی تعلیم کا منصوبہ دیا؟

ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے، سندھ کی تقسیم پیپلزپارٹی کو قابل قبول نہیں۔ پنجاب کے لوگ پنجاب میں انتظامی یونٹس کی تقسیم چاہتے ہیں، سندھ کےلوگ نہیں چاہتے۔

سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ کراچی میں انفرا اسٹرکچر پر کام ہو رہا ہے، جتنا ہونا چاہیے اتنا نہیں ہورہا، یونیورسٹی روڈ پر شہریوں کو تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے، میں 40 سال سے ڈیفنس میں رہتی ہوں، میرےگھر پانی نہیں آتا۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ، 12غیر سرکاری نتائج، ن لیگ 8، پی پی 4 سیٹوں پر کامیاب

ترجمان نے سندھ حکومت نے کہا کہ کراچی میں بہت سارے مسائل ہیں، ہم چیزیں ٹھیک کررہے ہیں، سارا ملبہ ہم پر نہیں ڈالا جاسکتا، آپ اس سال کے آخر میں دیکھیں گےکہ کراچی کے حالات میں بہتری آئی گی۔ریڈ لائن منصوبے کے حوالے سے سعدیہ جاوید نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے پر کام تیزی سے ہورہاہے، ریڈ لائن کے مکسڈ لین ٹریک کی ڈیڈلائن 31 جولائی ہے۔