مظفرآباد ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) مضبوط دکھائی دے رہی ہے، مہاجرین نشستوں کا تنازع بھی اہم مسئلہ ہے: طارق سمیر

Calender Icon اتوار 2 اگست 2026

سینئر صحافی اور تجزیہ کار طارق سمیر نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے تناظر میں مظفرآباد(Muzaffarabad) ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) مضبوط انتخابی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے، تاہم مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق تنازع، قانونی پیچیدگیاں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں انتخابی ماحول کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہیں۔

ایم نیوز کے پروگرام “نیوز اینڈ ویوز” میں گفتگو کرتے ہوئے طارق سمیر نے کہا کہ ان کی مختلف سیاسی رہنماؤں، وفاق نواز حلقوں، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور دیگر بااثر شخصیات سے ملاقاتیں اور گفتگو ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق مجموعی رائے یہ سامنے آئی کہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ایسی بیان بازی سے اجتناب کیا جانا چاہیے جو مستقبل میں سیاسی مفاہمت یا رابطوں کے دروازے بند کر دے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں سیاسی مقابلہ فطری عمل ہے اور اس دوران سخت بیانات بھی سامنے آتے ہیں، تاہم تمام فریقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

طارق سمیر کے مطابق مظفرآباد ڈویژن میں متعدد حلقوں پرآج پولنگ ہونی ہے اور ان حلقوں کے نتائج مجموعی انتخابی منظرنامے پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینی صورتحال کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو کئی حلقوں میں برتری حاصل دکھائی دے رہی ہے، اگرچہ حتمی فیصلہ ووٹرز کی رائے سے ہی ہوگا۔

انہوں نے مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق جاری تنازع کا بھی تفصیل سے ذکر کیا اور کہا کہ یہ معاملہ صرف انتخابی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اس میں آئینی، قانونی اور سفارتی پہلو بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق بعض حلقے اس معاملے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہیں، جبکہ خارجہ دفتر کا مؤقف ہے کہ اس حساس مسئلے پر کسی بھی تبدیلی کے پاکستان کے کشمیر سے متعلق دیرینہ مؤقف پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کار نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی جماعت چار سے پانچ نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مظفرآباد ڈویژن کے بعض اہم حلقوں میں سخت مقابلہ متوقع ہے اور بعض نمایاں سیاسی شخصیات کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گفتگو کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم اور ان کی حالیہ تقاریر کا بھی ذکر آیا۔ طارق سمیر نے کہا کہ بلاول بھٹو نے اپنی ایک تقریر میں ریاست کے حوالے سے جذباتی انداز اختیار کیا، جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آیا۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے مختلف ٹی وی پروگراموں میں شرکت کے دوران وضاحت کی کہ ان کے بیان کا مقصد ریاستی اداروں یا اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں تھا۔

مزیدپڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، 9 حلقے 207 امیدوار، پولنگ کل

طارق سمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں وفاقی حکومت کی دلچسپی بھی واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف وفاقی وزراء اور حکمران جماعت کے رہنما انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی سمیت مختلف علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حنیف عباسی، ناصر بھٹ اور دیگر سیاسی شخصیات اپنے اپنے حلقوں میں انتخابی سرگرمیوں کو منظم انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں اور کارکنوں کو متحرک رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی زیر بحث لایا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی حکمران جماعت کو انتخابی نتائج میں فائدہ پہنچنے سے متعلق سیاسی مباحث جاری ہیں۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی مختلف صوبوں میں اپنی مضبوط سیاسی موجودگی کا دعویٰ کر رہی ہے اور انتخابی عمل سے قبل دھاندلی کے الزامات عائد کرنے کے بجائے عوامی حمایت پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔

گفتگو کے اختتام پر طارق سمیر نے راولاکوٹ، باغ اور دیگر حساس حلقوں میں انتخابی انتظامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر بعض انتظامی معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے دکھائی دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی عمل کے شفاف اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ادارے مختلف چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے کامیابی کے دعوے اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ سیاسی منظرنامے کا فیصلہ عوام پولنگ کے روز اپنے ووٹ کے ذریعے کریں گے، اور یہی فیصلہ یہ طے کرے گا کہ کون سی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتی ہے۔