کیا اے آئی ٹیکنالوجی ملازمتوں سے محروم کر دیگی؟ اے آئی گاڈ فادر کی پیشگوئی

Calender Icon پیر 17 اگست 2026

آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے حوالے سے اکثر کہا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔

ٹیکنالوجی کمپنی Nvidia کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی لگ بھگ ہر پیشے پراثر انداز ہوسکتی ہے اور کام کے اوقات کو مختصر بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔

مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کا ماننا ہے کہ بتدریج انسان متعدد کاموں کے لیے غیر ضروری ہو جائیں گے۔

ایلون مسک نے تو پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ 2 دہائیوں کے اندر بیشتر افراد کو کام پر جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔کمپیوٹر سائنسدان جیفری ہنٹن کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا گاڈ فادر قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے 2024 میں اے آئی ٹیکنالوجی پر کیے جانے والے کام پر فزکس کا نوبیل انعام جیتا تھا۔ کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جیفری ہنٹن نے اے آئی سے ملازمتوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا انتباہ کیا ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ اے آئی کے نتیجے میں بیروزگاری بڑے پیمانے پر عام اور کروڑوں افراد روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے اے آئی انفرا اسٹرکچر بشمول ڈیٹا سینٹرز اور چپس پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ آٹومیشن کو بہتر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے اس سرمایہ کاری پر منافع حاصل کرنے کے لیے ایسے اے آئی سسٹمز فروخت کیے جائیں گے جو کم لاگت میں ایسے کام خود کرسکیں گے جو ابھی انسانی ورکرز کرتے ہیں۔ منافع کے حصول کی خواہش کے باعث اے آئی ٹولز ملازمین کا متبادل بن جائیں گے۔

جیفری ہنٹن نے کہا کہ اگرچہ اے آئی ٹیکنالوجی سے نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے مگر یہ تعداد اتنی نہیں ہوگی جتنے افراد ملازمتوں سے محروم ہوں گے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی سے طویل المعیاد اثرات کے بارے میں پیشگوئی کرنا بہت مشکل ہے۔

جیفری ہنٹن اس سے قبل بھی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے انتباہی پیشگوئیاں کر چکے ہیں، بلکہ ایک بار تو انہوں نے کہا تھا کہ ایسا 10 سے 20 فیصد امکان ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بتدریج انسانیت کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ اے آئی کے خطرات کے حوالے سے بات کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے غیریقینی صورتحال ذہنوں کے ساتھ کھیل رہی ہے کیونکہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ مستقبل میں کیا ہوگا، اگر آپ پوچھیں کہ آئندہ 10 برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کیسی ہوگی، تو کسی کو بھی اس کا درست اندازہ نہیں۔

اس سے قبل اگست 2025 میں ایک پوڈ کاسٹ سے بات کرتے ہوئے جیفری ہنٹن نے کہا تھا کہ اے آئی نہ صرف اس طرح چیزوں کو سیکھ رہی ہے جو ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہے بلکہ ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے ہم اسے سوئچ آف کرسکیں۔جیفری ہنٹن کے تحقیقی کام نے مشین لرننگ کی بنیاد رکھی تھی اور یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس سے کمپیوٹرز کو انسانی ذہانت کی نقل کرنے میں مدد ملی۔

جیفری ہینٹن نے 2023 میں انہوں نے گوگل کی ملازمت کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا تھا کہ برے عناصر اس ٹیکنالوجی کو دیگر افراد کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

کچھ عرصے قبل ایک انٹرویو میں جب ان سے اے آئی میں پیشرفت کے حوالے سے پوچھا گیا کہ تو ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت اس شعبے کے بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ وقت بعد ممکنہ طور پر اگلے 20 برسوں کے اندر ہم ایسے اے آئی سسٹمز تیار کرلیں گے جو انسانوں سے زیادہ ذہین ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خوفزدہ کر دینے والا خیال ہے، ابھی آپ ایسا سوچ سکتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کسی 3 سالہ بچے کی طرح ہے اور بچے بہت تیزی سے بڑے ہوتے ہیں۔جیفری ہنٹن کے مطابق ان کے خیال میں اے آئی سے دنیا پر مرتب اثرات صنعتی انقلاب سے ملتے جلتے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی انقلاب کی وجہ سے انسانی مضبوطی ایک جگہ رک گئی کیونکہ ہم زیادہ طاقتور مشینوں پر انحصار کرنے لگے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ہم کچھ ایسا دوبارہ کر رہے ہیں جو انسانی ذہانت کی جگہ لے گا اور عام انسانی ذہانت مزید پیشرفت نہیں کرسکے گی بلکہ مشینیں آگے بڑھیں گی۔

جب ان سے پوچھا کہ ان کے خیال میں اگلے 10 یا 20 سال بعد زندگی کیسی ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہمارے سیاسی نظام اس ٹیکنالوجی کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:پنجاب بار کونسل کا مشال یوسفزئی کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ

ان کے خیال میں اس ٹیکنالوجی سے طبی شعبے میں حیرت انگیز اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ لگ بھگ ہر صنعت کی افادیت بڑھا سکتی ہے، مگر اس کی پیشرفت کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔