راولپنڈی: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو آج ہی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ان کی منتقلی کے لیے انتظامات مکمل کرلیے گئے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقلی کے لیے دو روٹ مختص کیے گئے ہیں۔ بانی کے اسکواڈ کو اے پلس کیٹیگری کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ عمران خان کے لیے اڈیالہ روڈ اور گورکھ پور کے دو روٹس کو سیکیورٹی کلیئر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ایف بلاک کے چوتھے فلور پر شفٹ کیا جائے گا۔ جو ایگزیکٹو فلور ہے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی اسی بلاک میں رکھا گیا تھا۔
چوتھے فلور پر گردے اور جگر کے مریضوں کے لیے خصوصی ٹیسٹ کرنے کے انتظامات بھی موجود ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو ہائی بلڈ پریشر سمیت آنکھوں اور پٹھوں میں درد کا عارضہ بھی لاحق ہے۔
عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان میڈیکل بورڈ کے ساتھ اڈیالہ جیل میں عمران خان کی صحت اور طبی معائنے کے لیے موجود ہیں۔
معائنے کے بعد عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کیا جائے گا، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان ان کے ساتھ ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔ اسپتال کے اطراف سڑک کنارے کھڑی گاڑیوں کو لفٹرز کے ذریعے ہٹا دیا گیا ہے۔
پولیس نے اسپتال جانے والے راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ جبکہ آئی جی اسلام آباد نے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال کا دورہ بھی کیا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق عمران خان کے علاج کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسپتال پہنچنے پر ایمرجنسی میں ان کا ابتدائی طبی معائنہ کیا جائے گا، جس کے لیے 6 ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم تیار ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے معائنے کے بعد عمران خان کو اسپتال میں داخل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر انہیں ایڈمٹ کیا گیا تو اس حوالے سے بھی خصوصی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے تمام قانونی تقاضے گزشتہ روز پورے کر لیے گئے تھے، اگر آج ان کو اسپتال منتقل نہ کیا گیا تو کل ہم توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔
مزید پڑھیں:ڈیزل 1روپے 64 پیسے جبکہ پیٹرول 0.27 پیسے مہنگا، نوٹیفکیشن جاری
اس سے قبل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سوال پر کہا کہ رات 12 بجے تک کا وقت ہے، یہ اسلام آباد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور جو کچھ کرنا ہے وہ کر رہے ہیں۔













جمعہ 21 اگست 2026 

