PTI نے عمران کی توہین عدالت درخواست سے وزیر داخلہ کو کیوں نکالا؟ پارٹی کے اندر اور باہر بحث

Calender Icon پیر 24 اگست 2026

عمران خان (Imran khan)کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف کو فریق بنانا، لیکن وزیر داخلہ محسن نقوی کو شامل نہ کرنا، پارٹی کے اندر اور باہر سوالات کا باعث بن گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ اقدام پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے اختیار کردہ مؤقف کے برعکس تھا۔ اس تنازع کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا توہین عدالت کی درخواست کا بنیادی مقصد سپریم کورٹ کے 18؍ اگست کے حکم پر عملدرآمد کرانا تھا یا اس پر عملدرآمد نہ کرنے کے مبینہ طور پر ذمہ دار افراد کو سزا دلوانا۔

کارروائی سے واقف ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا تھا، جہاں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات پر زور دیا تھا کہ معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہئے بلکہ یہ کام پارٹی کے وکلا پر چھوڑ دینا چاہئے تاکہ وہ جیل میں قید بانی چیئرمین کے مفاد میں خالصتاً قانونی اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر کارروائی کریں۔

ذرائع کے مطابق، اس کا واضح مقصد سپریم کورٹ کے اس حکم پر عملدرآمد یقینی بنانا تھا جس کے تحت عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرکے عدالت کی جانب سے طے کردہ انتظامات کے تحت علاج فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کا موقف تھا کہ توہین عدالت کی کارروائی کا مقصد سیاسی شخصیات کو سزا دینا نہیں بلکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانا ہونا چاہئے۔

اجلاس میں یہ پوائنٹ بھی اٹھایا گیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کیلئے کی جانے والی کارروائی میں ان متعلقہ انتظامی سربراہان کو توجہ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے جو حکم پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہیں، جن میں سیکریٹری داخلہ اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری شامل ہیں، بجائے اس کے کہ اعلیٰ سیاسی شخصیات کو فریق بنایا جائے۔

ذرائع کے مطابق، دلیل یہ تھی کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ دونوں کو فریق بنانے سے کارروائی واضح طور پر سیاسی رنگ اختیار کرتی ہوئی نظر آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ اس سے پی ٹی آئی کے بنیادی مقصد یعنی عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے سے توجہ ہٹ جائے۔ تاہم، جب بعد ازاں درخواست تیار کی گئی تو وزیراعظم شہباز شریف کو فریق بنایا گیا جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو شامل نہیں کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی کو اس اقدام کی وجہ کا علم نہیں ہے۔

مزیدپڑھیں:بھارت میں شادی کا انوکھا فراڈ، 40 سے زائد دولہے دلہنوں کے انتظار میں بیٹھے رہ گئے

اس کے بعد سے وزیر داخلہ کو درخواست میں شامل نہ کیے جانے کا معاملہ سیاسی حلقوں اور میڈیا میں زیر بحث ہے۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے اس کی مختلف وضاحت پیش کی ہے۔ بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کسی فرد کو فریق بنانے سے قبل اس فرد کو سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے کے فیصلے سے جوڑنے والا ثبوت موجود ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ کو فریق نہیں بنایا گیا جبکہ سیکریٹری داخلہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے وکیل عزیر کرامت بھنڈاری کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں وزیراعظم، وزرائے قانون و اطلاعات، اسلام آباد کے چیف کمشنر، سیکریٹری داخلہ، پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں توہین عدالت کی کارروائی کے ساتھ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر عملدرآمد کیلئے فوری اقدامات کی استدعا کی گئی ہے۔

دوسری جانب، حکومت نے سپریم کورٹ کے اصل حکم کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے سکیورٹی کی ایسی صورتحال پیدا کر دی تھی جس کے باعث عمران خان کو شفاء اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔

اس کے بجائے انہیں طبی معائنے کیلئے پمز اسپتال لے جایا گیا اور بعد ازاں اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔

یہ تنازع اب صرف ایک وزیر کا نام درخواست میں شامل نہ کیے جانے تک محدود نہیں رہا۔ اس سے ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی کی نوعیت کیا ہے، یعنی آیا پارٹی عدالتی حکم پر عملدرآمد کرانے کا طریقہ کار اختیار کرنا چاہتی ہے یا ان افراد کیخلاف کارروائی کی خواہاں ہے جنہیں وہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کیلئے ابتداء میں زور ابتدائی موقف یعنی عدالتی حکم پر عملدرآمد پر تھا۔ تاہم دائر کی گئی درخواست نے اس بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آخری میں اختیار کی جانے والی قانونی حکمتِ عملی اس موقف کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔

انصارعباسی