لاہور میں شدید گرمی کے دوران بدترین لوڈشیڈنگ،شہری پریشان

Calender Icon پیر 24 اگست 2026

شدید گرم اور مرطوب موسم کے دوران بجلی کی بدترین ٹرپنگ، جبری، شیڈول اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ(Loadshedding) نے شہریوں کی معمول کی زندگی شدید متاثر کردی ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں خصوصاً اتوار کے روز مرمت اور بحالی کے نام پر کئی گھنٹوں کی بجلی بندش نے شہریوں کا تفریح اور آرام کا وقت بھی برباد کردیا ہے۔

جوہر ٹاؤن میں ایوب چوک کے قریب رہائش پذیر ایک شہری نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند روز سے ان کے علاقے میں بجلی کی بدترین ٹرپنگ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے، خصوصاً شام اور رات کے اوقات میں صورتحال انتہائی خراب ہوجاتی ہے۔ شہری کے مطابق شدید گرمی اور حبس کے باوجود صارفین کی شکایات سننے اور مسئلہ حل کرنے والا کوئی نہیں۔

شہری نے بتایا کہ روزانہ چند گھنٹوں کی شیڈول لوڈشیڈنگ کے علاوہ ہر اتوار کو ’مرمت اور بحالی‘ کے نام پر 6 گھنٹے سے زائد بجلی بند رکھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں اس نوعیت کی بندش کسی بھی کام کے دن کی جاتی تھی، مگر اب اتوار کو بجلی بند ہونے سے شہریوں کا فارغ وقت بھی متاثر ہورہا ہے۔

قریب ہی خیابانِ جناح میں رہائش پذیر ایک اور صارف نے لیسکو (LESCO) کی صارفین کو فراہم کی جانے والی سروس کو انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند روز سے علاقے میں شدید براؤن آؤٹ کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق بار بار بجلی کی کم وولٹیج اور بندش سے گھریلو برقی آلات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔

صارف نے لیسکو کے عملے کے رویے پر بھی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بلوں کی وصولی کے معاملے میں صارفین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، لیکن بجلی کی فراہمی اور شکایات کے ازالے کے وقت سروس کا معیار انتہائی ناقص دکھائی دیتا ہے۔

لاہور کے مختلف علاقوں سے جبری یا شیڈول لوڈشیڈنگ، بجلی کی ٹرپنگ اور دیگر مسائل کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں جوہر ٹاؤن، اچھرہ، اولڈ انارکلی، رحمان پورہ، گلبرگ، ملتان روڈ، ٹھوکر نیاز بیگ، چوبرجی، بٹاپور کے اطراف کی آبادیاں، شاہدرہ اور مانگا سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔

ایک شہری نے بتایا کہ اچانک پیدا ہونے والے بجلی کے فنی نقائص بھی مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں۔ ان کے مطابق چند روز قبل ان کے علاقے کا ٹرانسفارمر اوورلوڈنگ کے باعث خراب ہوگیا، جس کے نتیجے میں متعدد گھروں کو تقریباً 18 گھنٹے تک بجلی سے محروم رہنا پڑا۔ شہری کا کہنا تھا کہ مسئلہ بالآخر کسی بااثر شخص سے رابطے کے بعد حل ہوا۔

مزیدپڑھیں:ای چالان نادہندگان کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ روکنے کی تجویز

لیسکو کے ایک عہدیدار نے گفتگو کرتے ہوئے بجلی کے ان مسائل کی وجہ شام اور رات کے اوقات میں سسٹم پر بڑھنے والے اضافی بوجھ یا بجلی کی قلت کو قرار دیا۔

عہدیدار کے مطابق شام اور رات کے اوقات میں ایئر کنڈیشنرز کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے، جس سے لیسکو کے نظام پر بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے اور بعض حالات میں کمپنی کے پاس جبری لوڈشیڈنگ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔

ان کا کہنا تھا کہ دن کے اوقات میں متعدد صارفین شمسی توانائی استعمال کرتے ہیں جس سے بجلی کا نظام نسبتاً بہتر طریقے سے چلتا ہے، تاہم شام کو سولر پاور کا استعمال کم ہونے اور صارفین کے دوبارہ لیسکو کے نظام سے منسلک ہونے کے بعد بجلی کی طلب اچانک بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سسٹم اوورلوڈ ہوجاتا ہے اور جبری لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔

ایک اور لیسکو افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بٹاپور، مانگا اور قصور کے مختلف دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ ہائی لاس فیڈرز پالیسی کے تحت کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ ہوتی ہے انہیں ’لاس میکنگ فیڈرز‘ میں شمار کیا جاتا ہے اور پالیسی کے تحت ایسے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

تاہم افسر نے کہا کہ لیسکو کو ان علاقوں میں بہتر سے بہتر بجلی کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے جہاں صارفین باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں اور بجلی چوری یا کسی دوسری غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں۔

لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ترجمان سے بھی اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم متعدد کالز کے باوجود ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

دوسری جانب لیسکو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ایک پریس ریلیز کے مطابق قصور سرکل میں بجلی چوری اور نادہندگان کے خلاف آپریشن کے دوران لیسکو ٹیموں نے 6 ٹرانسفارمرز اور 7 بجلی کے میٹر اتار لیے جبکہ 3 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

کارروائیاں پھول نگر ڈویژن کی جمبر کلاں سب ڈویژن اور چونیاں ڈویژن کی کنگن پور سب ڈویژن میں کی گئیں۔ لیسکو ٹیموں نے 5 نادہندگان سے 2 لاکھ روپے کے واجبات بھی وصول کیے جبکہ کارروائی کے دوران پی وی سی کیبلز بھی قبضے میں لے لی گئیں۔