پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر (AJK) میں حکومت سازی اور وزارتِ عظمیٰ کے لیے ممکنہ امیدواروں کے ناموں پر غور کے لیے پارٹی کا اہم اجلاس طلب کیا، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی عمران خان کی صحت اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں سمیت دیگر اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہ غلام قادر اور طارق فاروق وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے مضبوط امیدواروں کے طور پر سامنے آئے ہیں اور امکان ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کو پارٹی کی جانب سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا جائے گا۔
اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور اہم فیصلوں پر بھی غور کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس سے قبل بھی آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملے پر متعدد مرتبہ مشاورت کرچکی ہے تاکہ خطے میں پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کیا جاسکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں آج آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 7 مخصوص نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے لیے پارٹی کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔
اجلاس کی صدارت مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے کی جبکہ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور سینیٹر انوشہ رحمان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کے ذریعے آزاد کشمیر کی ترقی، آئین و قانون کی بالادستی، میرٹ اور انصاف کی بحالی کے لیے نواز شریف کے وژن کے مطابق کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
قرارداد میں نظریہ الحاقِ پاکستان اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے سے وابستگی بھی دہرائی گئی۔ اجلاس نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج کی جانب سے ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف کیے گئے اقدامات کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئی آزاد کشمیر حکومت امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، تعطل کا شکار ترقیاتی عمل بحال کرنے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جامع پالیسیاں مرتب کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابی عمل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور انتظامیہ کو انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد بھی پیش کی۔
مزیدپڑھیں:لاہور میں شدید گرمی کے دوران بدترین لوڈشیڈنگ،شہری پریشان
کشمیر کے مسئلے پر قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارتی اقدامات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت نے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی اور عالمی برادری کو خطے کی صورتحال کے حوالے سے گمراہ کیا۔
اجلاس میں کشمیری عوام کی جانب سے حق خودارادیت کے حصول کے لیے دی جانے والی قربانیوں اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا گیا جبکہ کشمیری عوام کے لیے پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کو بھی سراہا گیا۔
اجلاس نے بھارت میں امریکی سفیر سے منسوب کشمیر سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔
مخصوص نشستوں پر مقابلہ
دوسری جانب آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی خواتین کے لیے مخصوص 5 نشستوں پر آج 6 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اتوار کو جاری کی گئی حتمی فہرست کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی رفعت عابد، سحرش قمر، مریم ادریس اور مریم زمان المعروف مریم کشمیری جبکہ پیپلز پارٹی کی فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید راجہ میدان میں ہیں۔
خواتین کی 5 مخصوص نشستوں کے لیے ابتدائی طور پر 7 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے تاہم انتخابی شیڈول کے مطابق دستبرداری کے مقررہ دن پیپلز پارٹی کی امیدوار شاہین کوثر ڈار نے اپنے کاغذات واپس لے لیے۔
علماء و مشائخ کے لیے مخصوص نشست پر پیپلز پارٹی کے حافظ طارق محمود اور مسلم لیگ (ن) کے محمد مظہر سعید کے درمیان مقابلہ ہوگا، جبکہ ٹیکنوکریٹس اور پروفیشنلز کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر سید افتخار گیلانی اور پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ذوالفقار علی آمنے سامنے ہوں گے۔
بیرون ملک مقیم ریاستی باشندوں کے لیے مخصوص نشست پر مسلم لیگ (ن) کے چوہدری عبدالرحمان آرائیں واحد امیدوار تھے جنہوں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، جس کے باعث انہیں بلامقابلہ منتخب قرار دے دیا گیا۔
خواتین، علماء و مشائخ اور ٹیکنوکریٹس و پروفیشنلز کی مخصوص نشستوں پر پولنگ آج صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی کے ہال میں ہوگی۔
نو منتخب قانون ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس بھی آج دوپہر 2 بجے طلب کیا گیا ہے۔ نتائج کے اعلان کے فوراً بعد نو منتخب ارکان اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔ سبکدوش ہونے والے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر، جو حالیہ انتخابات میں اپنی نشست برقرار رکھنے میں ناکام رہے، نو منتخب ارکان سے حلف لیں گے۔













پیر 24 اگست 2026 

