پاکستانی بلیو اکانومی، 100 ارب ڈالر صلاحیت، روڈ میپ کے 85 نکات پر عملدرآمد مکمل

Calender Icon جمعہ 28 اگست 2026

پاکستان کے سمندر تقریباً 100 ارب ڈالر کی بلیو اکانومی کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم کئی دہائیوں تک اس قومی اثاثے سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ پاکستان کا بیشتر کارگو غیر ملکی شپنگ کمپنیاں لے جاتی رہیں، بندرگاہوں کی صفائی اور کھدائی بھی بیرونی کمپنیوں سے کرائی جاتی رہی جبکہ پاکستان کے بحری بیڑے کی تعمیر بھی بیرون ملک ہوتی رہی۔

اس صورتحال کے نتیجے میں ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ قومی کارگو میں پاکستان کی اپنی شپنگ صنعت کا حصہ صرف 11 فیصد تک محدود رہا۔ یہ صورتحال محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری کے لیے ایک اسٹریٹیجک خطرہ بھی بن گئی تھی۔

اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے 24 دسمبر 2024 کو 99 نکاتی روڈ میپ متعارف کرایا گیا، جس کی بنیاد پورٹس، لاجسٹکس، شپنگ، جہاز سازی اور ماہی گیری کے شعبوں پر رکھی گئی۔ حکام کے مطابق روڈ میپ کے 99 میں سے 85 نکات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

اس روڈ میپ کا مقصد پاکستان کے بحری شعبے کو جدید اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل پورٹس ماسٹر پلان تیار کیا گیا، یکساں پورٹ ٹیرف نافذ کیا گیا، کراچی پورٹ سے تجاوزات ختم کی گئیں جبکہ جدید کارگو مینجمنٹ سسٹم متعارف کرائے گئے تاکہ بندرگاہوں کی استعداد اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔

فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ اور پاکستان سنگل ونڈو سسٹم کے ذریعے کارگو کلیئرنس کا وقت 53 گھنٹوں سے کم ہو کر 18 گھنٹے رہ گیا ہے۔ کسٹمز، بینکوں اور پورٹ آپریٹرز کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانے سے کاروباری اور تجارتی عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز، شفاف اور آسان بنا دیا گیا ہے۔

1980 کے بعد پہلی مرتبہ کراچی شپ یارڈ میں تجارتی کنٹینر جہاز کی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ اس جہاز کی قیمت بھی مارکیٹ کے مقابلے میں کئی ملین ڈالر کم بتائی جاتی ہے۔

نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) بھی شپنگ کے شعبے میں شامل ہو چکی ہے، جبکہ 8 سال بعد پاکستان کی شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری دوبارہ فعال ہو گئی ہے۔

ماہی گیری اور آبی زراعت کے فروغ کے لیے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کرنا اور ساحلی آبادیوں کی آمدن بہتر بنانا ہے۔

نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز (NDMS)، این ایل سی، پورٹ قاسم اتھارٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس کے قیام سے پاکستان پہلی مرتبہ بندرگاہوں کی دیکھ بھال، صفائی اور کھدائی کے معاملے میں بیرونی انحصار سے نکل کر خودکفالت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اسی طرح سنگل پوائنٹ مورنگ (SPM) منصوبہ توانائی کی سپلائی چین کو مضبوط بنا رہا ہے، جبکہ ڈی پی ورلڈ کے تعاون سے قائم ڈیڈی کیٹڈ فریٹ کوریڈور کراچی پورٹ پر کارگو کی نقل و حرکت کو مزید مؤثر بنا رہا ہے۔

ڈیجیٹل انفورسمنٹ، رسک بیسڈ ٹارگٹنگ سسٹم اور آئی بی اے کراچی کے ذریعے کسٹمز لائسنسنگ جیسے اقدامات سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے اور اسمگلنگ کی روک تھام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔

ان بحری اصلاحات کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کراچی پورٹ عالمی درجہ بندی میں 99ویں سے 69ویں نمبر پر پہنچ چکی ہے، جبکہ پورٹ قاسم 74ویں سے 56ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم دونوں مل کر سالانہ 100 ملین ٹن سے زائد کارگو سنبھال رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گڈز ڈیکلریشن میں 16 فیصد، درآمدی ٹیکس وصولی میں 14 فیصد جبکہ الیکٹرانکس کی قانونی درآمدات میں 105 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

قومی بحری مال برداری میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کا حصہ بھی 5 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اس اضافے کے نتیجے میں پی این ایس سی کی سالانہ آمدنی 162 ملین ڈالر سے بڑھ کر 1.785 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق بحری شعبے میں اصلاحات کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو چکا ہے، عالمی شپنگ کمپنیاں پاکستان کی جانب متوجہ ہو رہی ہیں اور پاکستان خطے میں ایک اہم علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کا 27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست وصول کرنے سے انکار

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بحری اصلاحات نے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سازگار اور جدید کاروباری ماحول پیدا کر دیا ہے، جس سے ملکی بحری معیشت، تجارت، روزگار اور معاشی خودمختاری کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔