جاپانی ین(YEN) نے جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی حالیہ مضبوطی برقرار رکھی اور ایک ماہ سے زائد عرصے کی بہترین ہفتہ وار کارکردگی کی جانب بڑھتا رہا۔ سرمایہ کاروں کی توجہ بینک آف جاپان کی جانب سے رواں ماہ شرح سود میں ممکنہ اضافے اور امریکا کے اہم روزگار کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے، جس کے باعث عالمی کرنسی مارکیٹ میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔
جمعہ کی صبح جاپانی ین 155.25 فی ڈالر تک مضبوط ہوا، جو گزشتہ ماہ جولائی میں جاپان اور امریکا کی مشترکہ مداخلت کے بعد ریکارڈ کی گئی 155.20 کی سطح کے انتہائی قریب ہے۔ بعد ازاں ین میں معمولی کمی آئی اور آخری اطلاعات کے مطابق یہ 155.71 فی ڈالر کے قریب مستحکم رہا۔
رواں ہفتے مجموعی طور پر ین کی قدر میں تقریباً 2.5 فیصد اضافے کی توقع ہے، جو جولائی کے اواخر کے بعد اس کی سب سے مضبوط ہفتہ وار کارکردگی ہوگی۔ جولائی کے آخر میں جاپان اور امریکا نے کرنسی کی مسلسل گراوٹ کو روکنے کے لیے غیر معمولی مشترکہ مداخلت کی تھی۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ین کی حالیہ تیزی کے پیچھے کسی نئی سرکاری مداخلت کے واضح شواہد موجود نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں مارکیٹ میں یہ توقع مضبوط ہوئی ہے کہ بینک آف جاپان 17 اور 18 ستمبر کو ہونے والے اپنے اجلاس میں شرح سود کے حوالے سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرسکتا ہے۔
اسٹیٹ اسٹریٹ انویسٹمنٹ مینجمنٹ کے سینئر فکسڈ انکم اسٹریٹجسٹ ماساہیکو لو (Masahiko Loo) کے مطابق مارکیٹ اب اس امکان کو زیادہ سنجیدگی سے لینا شروع کر رہی ہے کہ جاپان 2027 تک اپنی مالیاتی پالیسی کو معمول کی جانب مزید لے جا سکتا ہے۔
دوسری جانب جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا (Atsushi Mimura) نے کہا ہے کہ حکام شرح مبادلہ میں ہونے والی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں۔ ان کے بیان کے بعد مارکیٹ میں یہ خدشات بھی برقرار رہے کہ اگر ین میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری رہا تو جاپانی حکام ایک بار پھر کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرسکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:امریکا ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں آج بھی اضافہ
ادھر امریکی ڈالر انڈیکس 99.01 کے قریب مستحکم رہا، جبکہ یورو 1.1625 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3527 ڈالر کے قریب رہا۔ ڈالر رواں ہفتے مجموعی طور پر تقریباً 0.7 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے، جس نے بھی ین سمیت دیگر کرنسیوں کو کچھ سہارا دیا۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر (Christopher Waller) کے محتاط بیان کے بعد رواں ماہ امریکی شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔ والر نے اشارہ دیا کہ اگر آنے والے اعداد و شمار مہنگائی میں مزید کمی کی تصدیق کرتے ہیں تو وہ موجودہ شرح سود برقرار رکھنے کی حمایت کریں گے۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ستمبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھانے کے امکانات تقریباً 50 فیصد تک آگئے ہیں۔
اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی روزگار کی رپورٹ پر ہیں، کیونکہ اس کے اعداد و شمار امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ شرح سود کے فیصلے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار ڈالر پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں، جبکہ جاپان میں شرح سود میں اضافے کی توقع ین کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔













جمعہ 4 ستمبر 2026 

