راولپنڈی: گرین الیکٹرک بس کی ٹکر سے 9 سالہ طالبہ جاں بحق؛ مشتعل شہریوں کا شدید پتھراؤ، 13 افراد گرفتار

Calender Icon بدھ 9 ستمبر 2026

راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ پر گرین الیکٹرک بس کی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے میں اسکول سے واپس آنے والی 9 سالہ طالبہ جاں بحق ہو گئی، جبکہ واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے شدید پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی کی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو حراست میں لے لیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کہکشاں کالونی کے رہائشی حامد مقبول اپنی دو بیٹیوں، 9 سالہ عائشہ اور ان کی دوسری بیٹی کو اسکول سے واپس لے کر گھر جا رہے تھے کہ اڈیالہ روڈ منور کالونی کے سامنے گرین الیکٹرک بس کی ٹکر سے شدید حادثہ پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں 9 سالہ بچی موٹر سائیکل سے نیچے گر کر بس کے نیچے آ کر کچلی گئی اور موقع پر ہی دم توڑ گئی، جبکہ موٹر سائیکل پر سوار والد اور دوسری بچی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والی طالبہ ایف جی گرلز اسکول میں زیرِ تعلیم تھی۔

اس افسوس ناک واقعے اور معصوم بچی کو یونیفارم میں سڑک پر بے جان دیکھ کر وہاں موجود شہری شدید مشتعل ہو گئے اور انہوں نے گرین الیکٹرک بس پر چاروں طرف سے شدید پتھراؤ شروع کر دیا۔ مشتعل افراد کی جانب سے کیے جانے والے پتھراؤ سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے اور گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔ اس دوران قریب موجود ایک دوسری بس کو بھی مشتعل افراد نے نقصان پہنچایا، جبکہ بس ڈرائیور سید شجر عباس کو پتھراؤ کے نتیجے میں زخمی حالت میں یرغمال بنا لیا گیا۔

مظاہرین نے ایک بس کے عقبی حصے کو آگ لگا کر جلانے کی بھی کوشش کی۔ تاہم، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او صدر بیرونی اعزاز عظیم اور ڈی ایف سی مبین نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بس میں لگی آگ کو بجھا دیا اور اسے آگے پھیلنے سے روک دیا۔ واقعے کی خبر ملتے ہی چیف ٹریفک آفیسر فرحان اسلم اور ایس پی صدر انعم شیر، ایس ایچ او صدر بیرونی اعزاز عظیم کے ہمراہ بھاری پولیس نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔

پولیس اور انتظامیہ نے زخمی ڈرائیور اور جاں بحق ہونے والی بچی کو ریسکیو 1122 کے ذریعے فوری طور پر اسپتال منتقل کروایا، جبکہ حادثے کی مرتکب اور پتھراؤ سے متاثرہ دونوں بسوں کو موقع سے منتقل کر کے سڑک کو ٹریفک کے لیے بحال کرا دیا گیا۔

پولیس نے امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے اور پتھراؤ میں ملوث افراد کے خلاف موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں شروع کر دیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق موقع سے 13 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ کیسے پیش آیا، اس کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہنگامہ آرائی کرنے والے دیگر مشتعل افراد کی شناخت کر کے ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے معصوم بچی کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کمشنر راولپنڈی سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ کمسن بچی کے جاں بحق ہونے کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے اور اس معصوم بچی کی موت کے ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔