ہالی ووڈ کی پہلی اے آئی اداکارہ ٹِلی نارووڈ کا پہلا آڈیشن، نتیجہ کیا رہا؟

Calender Icon جمعرات 10 ستمبر 2026

ہالی ووڈ کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی اداکارہ ٹلی نارووڈ نے اپنا پہلا آن کیمرا انٹرویو دیا ہے اور یہ اتنا ہی غیر معمولی رہا کہ جو تصور سے بھی باہر ہے۔

سی این این کی الزبتھ ویگمیسٹر کے ساتھ ایک ویڈیو انٹرویو میں نارووڈ کو ایک حقیقی آڈیشن کی صورتحال سے گزارا گیا۔ اسے ایک منظر کو فی البدیہہ پیش کرنے کا کہا گیا جس میں یہ ظاہر کرنا تھا کہ اسے ابھی معلوم ہوا ہے کہ اس کا کتا مر گیا ہے۔

اس پر اے آئی اداکارہ نے جواب دیا کہ یہ ایک مشکل صورتحال ہے اور اگر یہ کوئی حقیقی آڈیشن ہوتا تو وہ غالباً بس وہاں مکمل طور پر ساکت کھڑی رہتی اور اس صورتحال کے ’ڈیجیٹل درد‘ کو محسوس کرتی۔

ویگمیسٹر نے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ ٹلی دراصل اداکاری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اسے یہ سمجھنے کے لیے مختلف پرومپٹس کی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی پرومپٹس فراہم کیے جانے کے باوجود بھی اے آئی اداکارہ یہ منظر مکمل طور پر پیش نہیں کر سکی۔

ٹلی نارووڈ کے پیچھے موجود کمپنی ’پارٹیکل 6‘ کو سی این این کی ٹیم کے لیے ایک مکمل ٹیک تیار کرنے کے لیے کمپیوٹر پر گھنٹوں کام کرنا پڑا۔

توقع اور حقیقت کے درمیان یہ فرق کافی نمایاں ہے نارووڈ کی خالق ایلین وان ڈیر ویلڈن جن کا انٹرویو بھی سی این این نے لیا امید رکھتی ہیں کہ ان کی یہ اے آئی تخلیق مستقبل میں اسکارلٹ جوہانسن یا نیٹالی پورٹمین جیسی مقبولیت حاصل کر لے گی۔

ایلین وان ڈیر ویلڈن نے وضاحت کی کہ اس منصوبے کا مقصد روایتی فلم سازی کے کسی بھی پہلو کو ختم کرنا نہیں اور نہ ہی ٹلی کو کبھی کسی حقیقی اداکار کا متبادل بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی یہ رائے تخلیقی برادری خصوصاً ہالی ووڈ میں بھرپور طور پر تسلیم نہیں کی جا سکتی۔

جنریٹو اے آئی کو انسانی محنت، معاوضے اور تخلیقی صلاحیتوں کے لیے ایک وجودی خطرہ سمجھتے ہوئے، رائٹرز گلڈ آف امریکا اور اسکرین ایکٹرز گلڈ نے سنہ 2023 میں ایک تاریخی ہڑتال کی تھی جو تقریباً 4 ماہ تک جاری رہی۔

نارووڈ کو ابھی تک کسی ریلیز شدہ فلم میں کاسٹ نہیں کیا گیا تاہم ’دی ہالی وڈ رپورٹر‘ کے مطابق وہ ایک آنے والی فیچر لینتھ کامیڈی ڈراما فلم ’مِس الائنڈ‘ میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودیہ کی غیر مشروط حمایت کا اعلان، دفتر خارجہ

جسے ایک ’ہائبرڈ پروڈکشن‘ قرار دیا گیا ہے جس میں روایتی ڈائریکٹرز، رائٹرز اور ایڈیٹرز براہ راست اے آئی کے تکنیکی ماہرین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔