سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، غیر یقینی صورتحال ، قیمتیں اوپر نیچے ہونے لگیں

Calender Icon جمعرات 10 ستمبر 2026

کاروباری ہفتے کے چوتھے روز ملک میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے، فی تولہ سونا 600 روپے سستا ہوگیا۔

کاروباری ہفتے کے چوتھے روز ملک میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 600 روپے کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد ایک تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 62 ہزار 336 روپے مقرر ہوگئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی قیمت میں کمی کے بعد 10 گرام سونے کی قیمت بھی کم ہوگئی ہے۔ 10 گرام سونا 515 روپے سستا ہونے کے بعد 3 لاکھ 96 ہزار 378 روپے کا ہوگیا ہے۔

سونے کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کی بڑی وجوہات میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی، عالمی معاشی صورتحال میں غیر یقینی اور جغرافیائی کشیدگی شامل ہیں۔

عالمی سطح پر معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ اس کے باعث سونے کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے قیمتیں بھی اوپر جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں پر مختلف معاشی اور سیاسی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، جبکہ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کے دوران اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔

عالمی سطح پر شرحِ سود میں کمی یا مستقبل میں شرحِ سود کم ہونے کی توقعات بھی سونے کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ کم شرحِ سود کے ماحول میں غیر سودی اثاثے کے طور پر سونے کی کشش بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت کے تعین میں عالمی قیمت کے ساتھ ساتھ روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ روپے کی قدر اور ڈالر کے مقابلے میں شرحِ تبادلہ میں ہونے والی تبدیلیاں مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت کو متاثر کرتی ہیں۔

سونے کی قیمت میں کمی یا اضافے کا تعلق صرف عالمی مارکیٹ سے نہیں بلکہ مقامی سطح پر روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ سے بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح عالمی معاشی صورتحال میں غیر یقینی اور جغرافیائی کشیدگی بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنتی ہے۔

عالمی سطح پر جب معاشی اور سیاسی صورتحال میں غیر یقینی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سونے کی طلب میں اضافے کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسی طرح شرحِ سود میں کمی یا مستقبل میں شرحِ سود کم ہونے کی توقعات سونے کی طلب کو متاثر کرتی ہیں۔ کم شرحِ سود کے ماحول میں سونا، جو سود ادا نہیں کرتا، سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً زیادہ پرکشش اثاثہ بن جاتا ہے۔

پاکستان میں مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ کی صورتحال، ڈالر کی قدر اور روپے کی شرحِ تبادلہ سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیل ہوتی ہے۔

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ قیمتوں کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 600 روپے کی کمی کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 62 ہزار 336 روپے ہوگئی ہے، جبکہ 10 گرام سونا 515 روپے سستا ہونے کے بعد 3 لاکھ 96 ہزار 378 روپے کا ہوگیا ہے۔

یوں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز ملک میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی، عالمی معاشی غیر یقینی، جغرافیائی کشیدگی اور شرحِ سود سے متعلق توقعات سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل ہیں۔