مصنوعی ذہانت(Artificial Intelligence) جہاں کام کو تیز اور آسان بنا رہی ہے، وہیں بعض ملازمتوں کے مستقبل پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں، اے آئی کمپنی اینتھروپک کی ایک تحقیق کے مطابق کمپیوٹر پروگرامنگ، کسٹمر سروس، ڈیٹا انٹری اور طبی ریکارڈ سے متعلق ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اینتھروپک نے مختلف شعبوں کی ملازمتوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ کمپیوٹر پروگرامنگ کے کاموں میں اے آئی کی ممکنہ شمولیت سب سے زیادہ، یعنی 74.5 فیصد تک دیکھی گئی، کسٹمر سروس کے شعبے میں یہ شرح 70.1 فیصد اور ڈیٹا انٹری میں 67.1 فیصد رہی۔
طبی ریکارڈ سے متعلق ملازمتیں بھی 66.7 فیصد، مارکیٹنگ 64.8 فیصد اور سیلز سے متعلق کام 62.8 فیصد تک اے آئی سے متاثر ہوسکتے ہیں، مالیاتی اور سرمایہ کاری کے تجزیہ کاروں کے کاموں میں بھی اے آئی کی شمولیت کا امکان 57.2 فیصد بتایا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:ایپل واچ کے نئے AI فیچرز نے پرائیویسی،جاسوسی قوانین پر سوال اٹھا دیئے
رپورٹ کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام ملازمتیں ختم ہوجائیں گی، کئی شعبوں میں اے آئی ملازمین کی جگہ لینے کے بجائے ان کے کام کو تیز اور آسان بنا سکتی ہے، تاہم ملازمتوں کی نوعیت اور مطلوبہ مہارتیں ضرور تبدیل ہوسکتی ہیں۔
اینتھروپک کے انتہائی منظرنامے کے مطابق 2030 تک اے آئی کے باعث عالمی معیشت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن تقریباً ہر 5 میں سے ایک ذہنی یا علمی کام کرنے والا شخص بے روزگار بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے حالات میں علمی شعبوں سے وابستہ افراد کی اجرت میں 11.5 فیصد تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔













ہفتہ 12 ستمبر 2026 

