عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں(Gold Rates) منگل کو بڑی حد تک مستحکم رہیں، تاہم گزشتہ روز ایک ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی فیصلے پر مرکوز ہے، جس سے شرح سود کی مستقبل کی سمت کے حوالے سے اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت معمولی تبدیلی کے بعد 4,300.96 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ پیر کو سونا 7 اگست کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگیا تھا۔ دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,341.10 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔
امریکی مرکزی بینک بدھ کو اپنے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر 1800 جی ایم ٹی پر پالیسی فیصلہ جاری کرے گا۔ مالیاتی منڈیوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ فیڈرل ریزرو بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کرے گا، جس کے بعد شرح سود 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں پہنچ جائے گی۔
آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق سونے کے لیے صرف شرح سود میں اضافے کا فیصلہ اہم نہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہوگی کہ فیڈ چیئر کیون وارش اس فیصلے کو کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:ملک میں سیلاب کا الرٹ جاری، دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ
ان کا کہنا تھا کہ اگر فیڈ چیئر شرح سود میں اضافے کو مزید سخت پالیسی کے آغاز کے طور پر پیش کرتے ہیں تو سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم اگر مستقبل میں محتاط اور محدود رفتار سے پالیسی سخت کرنے کا اشارہ دیا گیا تو یہ سونے کی قیمتوں کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
سونا عام طور پر افراط زر اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، تاہم شرح سود میں اضافے کے ماحول میں اس کی کشش کم ہوجاتی ہے کیونکہ سونا باقاعدہ منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔
دریں اثنا، امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ پیر کو پہلی مرتبہ اکتوبر 2023 کے بعد 5 فیصد کی سطح تک پہنچ گئی، جس سے بھی سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ سلور کی قیمت 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 63.28 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ پلاٹینم 0.1 فیصد کمی کے بعد 1,757.46 ڈالر فی اونس پر آگیا۔
پیلاڈیم کی قیمت میں بھی 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 1,283.61 ڈالر فی اونس ہوگئی۔













منگل 15 ستمبر 2026 

