اسلام آباد: وزارتِ مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ حج 2025 کے حجاج کرام کو ساڑھے تین ارب روپے کی بچت کی رقم 31 اکتوبر تک واپس کر دی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عازمینِ حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
وزارتِ مذہبی امور کے مطابق، رقم کی واپسی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے متعلقہ بینک برانچز سے کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق 25 فیصد حجاج کو کوئی رقم واپس نہیں ہوگی۔ 14 فیصد حجاج کو فی کس 12 ہزار روپے واپس کیے جائیں گے۔ 16 فیصد حجاج کو فی کس 25 ہزار روپے کی واپسی ہوگی۔ 10 فیصد حجاج کو فی کس 48 ہزار روپے واپس کیے جائیں گے۔ 23 فیصد حجاج کو فی کس 75 ہزار روپے کی ادائیگی ہوگی۔ 12 فیصد حجاج کو فی کس 90 ہزار روپے جبکہ 408 حجاج کو فی کس 1 لاکھ 10 ہزار روپے واپس کیے جائیں گے۔
وزارتِ مذہبی امور نے حج 2026 کے لیے سرکاری سکیم میں 30 ہزار زائد کوٹہ رکھنے کا اعلان کیا ہے
حج 2026 میں منیٰ کے خیموں میں ایئرکنڈیشنر، فولڈنگ میٹریس، اور چِپسم وال کی سہولت برقرار رہے گی۔ ہر 150 عازمین کے ساتھ ایک ناظم تعینات کیا جائے گا، اور “حج ناظم سکیم” کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تمام حجاج کو ٹرالی بیگ، ہینڈ کیری، سکارف، اور سعودی سم فراہم کی جائے گی، جس پر 300 سے 600 منٹ کی کال اور انٹرنیٹ سہولت میسر ہوگی۔
پاک حج ایپ کے ذریعے حجاج کو تمام ضروری اپڈیٹس اور معلومات فراہم کی جائیں گی، جس سے ان کے سفر کو مزید سہل بنایا جائے گا۔
وزیرِ مذہبی امور نے سعودی حکام اور سعودی سفیر نواف المالکی کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حج انتظامات کو مزید سہل اور جدید بنانے کے لیے پرعزم ہے، اور سعودی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رہے گا۔












جمعرات 23 اکتوبر 2025 