بھارتی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، بحری اشتعال انگیزی پر احتجاج، سعودیہ کیساتھ کھڑے ہیں، ترجمان

Calender Icon جمعرات 17 ستمبر 2026

اسلام آباد: پاکستان نے اپنی خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحریہ کے ایک جہاز کی مبینہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرلیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی بحری جہاز نے 15 ستمبر 2026 کو پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں پاک بحریہ کے جہاز کے انتہائی قریب آکر جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں بحری جہازوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاک بحریہ یکم ستمبر سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں سی اسپارک 26 مشقیں کر رہی ہے، جبکہ 7 ستمبر سے بھارتی بحری جہاز اور اس پر موجود ہیلی کاپٹر متعدد مرتبہ پاک بحریہ کی مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔

سی اسپارک 26 مشقوں کے دوران واقعہ
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاک بحریہ اپنی دو سالہ سی اسپارک 26 مشقیں کر رہی تھی۔

پاکستان نے بھارتی بحری جہاز کی جانب سے خطرناک حد تک قریب آکر جارحانہ انداز میں پینترا بدلنے کے اقدام کو بین الاقوامی قانون اور 1991 کے فوجی مشقوں، جنگی نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی نقل و حرکت سے متعلق پیشگی اطلاع کے دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی جہاز کی اس کارروائی سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوا۔15 ستمبر کو صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب آئی این ایس کولکتہ نے خطرناک انداز میں رخ تبدیل کیا اور پی این ایس حنین سے ٹکر ہوگئی۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق پی این ایس حنین نے تصادم سے بچنے کی کوشش کی، تاہم بھارتی جہاز کے ساتھ رگڑ کا واقعہ پیش آیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد آئی این ایس کولکتہ نے رفتار بڑھائی اور علاقے سے روانہ ہوگیا۔

پاکستان نے بھارتی اقدام کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک سنگین بحران جنم لے سکتا تھا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاک بحریہ کے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا۔

بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے واضح کیا گیا کہ پاکستان بھارتی بحریہ کی اس اشتعال انگیز کارروائی کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدوں کی سختی سے پابندی کرے، بالخصوص ایسے معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے جن کا مقصد سمندر میں کسی ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے۔نئی دہلی میں بھی احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور بھی بھارتی وزارت خارجہ کے سامنے اسی معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

پاکستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بھارت سے جارحانہ طرز عمل ترک کرنے اور ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کرے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا مزید کشیدگی اور عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے بھارت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرسکتے ہیں۔

بھارتی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، بحری اشتعال انگیزی پر احتجاج، سعودیہ کیساتھ کھڑے ہیں ، ترجمان

اسلام آباد: پاکستان نے اپنی خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحریہ کے ایک جہاز کی مبینہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرلیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی بحری جہاز نے 15 ستمبر 2026 کو پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں پاک بحریہ کے جہاز کے انتہائی قریب آکر جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں بحری جہازوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاک بحریہ یکم ستمبر سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں سی اسپارک 26 مشقیں کر رہی ہے، جبکہ 7 ستمبر سے بھارتی بحری جہاز اور اس پر موجود ہیلی کاپٹر متعدد مرتبہ پاک بحریہ کی مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔

سی اسپارک 26 مشقوں کے دوران واقعہ
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاک بحریہ اپنی دو سالہ سی اسپارک 26 مشقیں کر رہی تھی۔

پاکستان نے بھارتی بحری جہاز کی جانب سے خطرناک حد تک قریب آکر جارحانہ انداز میں پینترا بدلنے کے اقدام کو بین الاقوامی قانون اور 1991 کے فوجی مشقوں، جنگی نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی نقل و حرکت سے متعلق پیشگی اطلاع کے دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی جہاز کی اس کارروائی سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوا۔15 ستمبر کو صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب آئی این ایس کولکتہ نے خطرناک انداز میں رخ تبدیل کیا اور پی این ایس حنین سے ٹکر ہوگئی۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق پی این ایس حنین نے تصادم سے بچنے کی کوشش کی، تاہم بھارتی جہاز کے ساتھ رگڑ کا واقعہ پیش آیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد آئی این ایس کولکتہ نے رفتار بڑھائی اور علاقے سے روانہ ہوگیا۔

پاکستان نے بھارتی اقدام کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک سنگین بحران جنم لے سکتا تھا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاک بحریہ کے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا۔

بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے واضح کیا گیا کہ پاکستان بھارتی بحریہ کی اس اشتعال انگیز کارروائی کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدوں کی سختی سے پابندی کرے، بالخصوص ایسے معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے جن کا مقصد سمندر میں کسی ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے۔نئی دہلی میں بھی احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور بھی بھارتی وزارت خارجہ کے سامنے اسی معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر ہر لحاظ سے سعودی عرب کے ساتھ ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری حوثی حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ اور مقامات مقدسہ پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ امن و استحکام پاکستان اور ایران سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے اور حوثیوں کو اپنی سرگرمیاں روکنا ہوں گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ چین سمیت تمام علاقائی ممالک خطے میں امن کے خواہاں ہیں اور پاکستان کا مقصد بھی خطے میں امن و استحکام کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں وسط ایشیا تک پاکستان کی رسائی ایرانی سرزمین کے ذریعے ہی ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی 13 ستمبر کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گفتگو بھی ہوئی۔ ترجمان کے مطابق پاکستان ڈائیلاگ اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا۔ لبنانی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور لبنان کے درمیان ایم او یو کے تحت سزا یافتہ مجرم اپنی سزائیں اپنے اپنے ممالک میں مکمل کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے بھی بات ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کے ناظم الامور کو گزشتہ رات دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔ 15 ستمبر کو خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی جہاز کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی، جسے پاکستان نے بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور بھی آج بھارتی وزارت خارجہ میں اس واقعے پر ڈیمارش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایس سی او ریٹس کی میزبانی کی، جبکہ اجلاس میں مشترکہ سرگرمیوں کے حوالے سے بھی اتفاق کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ وزیراعظم جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا، انسداد دہشتگردی، مسئلہ کشمیر اور فلسطین سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

ترجمان نے پاکستانی سکھ شہریوں کو بھارت جانے سے روکے جانے کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست نہیں۔ بھارت نے نہ صرف واہگہ بارڈر بند کررکھا ہے بلکہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزے کا حصول بھی مشکل بنا رکھا ہے۔ رواں برس پاکستان نے صرف ویساکھی کے لیے 2800 سے زیادہ ویزے جاری کیے۔ کرتارپور راہداری پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے بند کررکھی ہے۔ پاکستان کرتارپور راہداری کے ذریعے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او اجلاس میں بھارت کی نمائندگی اس کے ناظم الامور نے کی اور توقع ہے کہ آئندہ برس اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او اجلاس میں بھی بھارت کی نمائندگی ہوگی۔

مزید پڑھیں: ولی اللہ صاحبزادہ کا TikTok سفر، عام زندگی سے لاکھوں لوگوں تک

افغان طلبہ سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں مستند ویزا رکھنے والے اور تعلیمی کورس کے لیے موجود افغان طلبہ ملک میں قیام کرسکتے ہیں۔