گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے سوئٹزرلینڈ کی توانائی اور ماحول کو خطرات

Calender Icon جمعہ 18 ستمبر 2026

گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا نہ صرف قدرتی ماحول بلکہ توانائی، پانی کے ذخائر اور حیاتیاتی تنوع کے لیے بھی بڑے سوالات پیدا کر رہا ہے، سوئٹزرلینڈ میں 1970 کی دہائی کے اوائل سے اب تک 1,100 سے زائد چھوٹے گلیشیئرز غائب ہوچکے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں گلیشیئرز کی نگرانی کرنے والے ادارے GLAMOS کے مطابق ملک میں باقی رہ جانے والے گلیشیئرز بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سال 2000 سے اب تک اپنے حجم کا 40 فیصد حصہ کھو چکے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اختتام تک سوئٹزرلینڈ کے گلیشیئرز کا حجم 75 مکعب کلومیٹر سے کم ہوکر 45 مکعب کلومیٹر رہ گیا ہے۔ماہرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ 2050 سے 2070 کے درمیان تقریباً گلیشیئرز سے پاک ہوسکتا ہے، جبکہ صدی کے اختتام تک صرف چند بڑے گلیشیئرز، جن میں ایلیٹش اور رون گلیشیئرز شامل ہیں، باقی رہنے کا امکان ہے۔

گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے ماحولیاتی اور قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ سوئٹزرلینڈ کی توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

سوئٹزرلینڈ اپنی توانائی کا تقریباً 60 فیصد حصہ پن بجلی سے حاصل کرتا ہے، جس کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار توانائی کے نظام کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

ای پی ایف ایل کے ہائیڈرولک کنسٹرکشنز پلیٹ فارم کے آپریشنز کے سربراہ اور سول انجینئر جیووانی ڈی سیزارے گزشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے ہائیڈرو پاور ڈیموں کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف پانی کی مقدار کم ہونے کا نہیں، آج گلیشیئرز پورے سال پگھلتے ہیں اور گرمیوں میں پانی کا مسلسل بہاؤ فراہم کرتے ہیں، لیکن جب گلیشیئرز ختم ہوجائیں گے تو براہ راست بارش اور برفباری پر انحصار کرنا ہوگا، جو بہت زیادہ غیر یقینی ہے۔گرینڈ ڈکسینس دنیا کا سب سے اونچا گریویٹی ڈیم ہے اور گلیشیئرز پر انحصار کی ایک واضح مثال بھی ہے۔

اس کے کیچمنٹ ایریا میں ہر سال تقریباً 540 ملین مکعب میٹر پانی بہہ کر آتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ گلیشیئر سے نکلنے والے نالوں سے آتا ہے اور یہ ڈیم کے 400 ملین مکعب میٹر کے ذخیرے کو بھرتا ہے۔

سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ صدی کے آخر تک اس پانی کی آمد میں 30 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔اگر پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے والا گلیشیئر غائب ہوجاتا ہے تو یہ ذخیرہ، جو اصل میں گلیشیئر کے بہاؤ کے لیے بنایا گیا تھا، گیلے اور خشک موسموں کے درمیان فرق کو پورا نہیں کرپائے گا۔

ڈیموں کی اونچائی بڑھانے کی تجویز

توانائی کی فراہمی پر گلیشیئرز کے پگھلنے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مزید ڈیم بنانا ایک آپشن ہے۔برنز اوبرلینڈ میں ٹرفٹ ڈیم کی تعمیر تقریباً 12 سال پہلے شروع ہوئی تھی، تاہم نئے ڈیموں کی تعمیر ایک سست اور اکثر متنازع عمل ہے۔

جیووانی ڈی سیزارے اس کے بجائے موجودہ ڈیموں کی اونچائی بڑھانے کی تجویز دیتے ہیں۔سوئٹزرلینڈ میں موووسین ڈیم کی اونچائی میں 13 میٹر، ویوکس ایموسن میں 21.5 میٹر اور لوزون ڈیم میں 17 میٹر اضافہ پہلے ہی کامیابی سے کیا جاچکا ہے۔یہ اضافے تقریباً 200 میٹر اونچے ڈیموں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے ہیں، لیکن ڈیم کی دیواروں کی V شکل کے باعث ذخیرے کی گنجائش بڑھانے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

لوزون ڈیم کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کی گنجائش 87 ملین مکعب میٹر سے بڑھ کر 107 ملین مکعب میٹر ہوگئی۔اس وقت سوئٹزرلینڈ میں اسی نوعیت کے 13 ڈیموں کی اونچائی بڑھانے کے منصوبوں پر غور کیا جارہا ہے۔جیووانی ڈی سیزارے کے مطابق گلیشیئرز سے ملنے والے پانی کے مسلسل بہاؤ کے ختم ہونے کے بعد بارش اور برفباری پر براہ راست انحصار زیادہ غیر یقینی ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈیموں کو ایک اور زیادہ خطرناک دشمن کا بھی سامنا ہے اور وہ تلچھٹ یا گاد ہے۔راک فلور ڈیم کے ذخائر کے نچلے حصے میں جمع ہوجاتا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں مورین کے ذخائر بڑے ہوتے جارہے ہیں، جو ڈیموں میں ڈیلٹا بناتے ہوئے مسلسل ان کی گنجائش کم کررہے ہیں۔والیس کینٹن میں گریز ڈیم پر کی گئی ایک تحقیق میں جیووانی ڈی سیزارے نے پایا کہ گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہورہا ہے۔

ان کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے سیڈیمنٹ بائی پاس سسٹمز یا ایسی سرنگیں استعمال کی جاسکتی ہیں جو گاد سے بھرے سیلابی پانی کو ڈیم کے ذخیرے کے گرد سے گزار دیں، تاہم ان کی تعمیر مہنگی ہوتی ہے اور انہیں ڈیم کے ابتدائی ڈیزائن میں شامل کرنا پڑتا ہے، جو شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے۔

ڈی سیزارے کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ڈیموں کو ایک سے زیادہ کام انجام دینا ہوں گے۔ذخیرے کا پانی اس وقت بنیادی طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاہم اسے آبپاشی، مصنوعی برف کی تیاری اور سیلاب سے بچاؤ سمیت دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پن بجلی پیدا کرنے کا عمل دراصل پانی کی کھپت نہیں کرتا بلکہ بہتے اور گرتے ہوئے پانی کی توانائی استعمال کرتا ہے۔سوئٹزرلینڈ میں صرف چند ڈیم ایسے ہیں جن کا پانی دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم ان کے مطابق اس صورت حال کو تبدیل ہونا چاہیے۔

گلیشیئرز میں موجود مائیکرو جاندار

گلیشیئرز صرف قیمتی پانی کے ذخائر ہی نہیں بلکہ زندگی سے بھی بھرپور ہیں۔ای پی ایف ایل کی ریور ایکو سسٹمز لیبارٹری کے سربراہ اور ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر ٹ بیٹن گلیشیئرز میں موجود مائیکرو آرگنزمز کا مطالعہ کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب وہ گلیشیولوجسٹس کو بتاتے ہیں کہ جب وہ برف پر چلتے ہیں تو ان کے پیروں کے نیچے لاکھوں زندہ خلیات موجود ہوتے ہیں تو وہ اکثر حیران رہ جاتے ہیں۔ان کے مطابق گلیشیولوجی اب بھی زیادہ تر فزکس کے حوالے سے دیکھی جاتی ہے، جبکہ کرائوسفیئر بائیولوجی اگلی سرحد ہے۔

بیٹن نے NOMIS فاؤنڈیشن کی مالی اعانت سے چلنے والے وینشنگ گلیشیئرز پروجیکٹ کے تحت دنیا بھر کا سفر کرنے میں پانچ سال صرف کیے۔انہوں نے اور ان کی ٹیم نے ہر براعظم کے 170 گلیشیئر سے نکلنے والے نالوں سے نمونے لیے اور توقع سے کہیں زیادہ متنوع مائیکرو بایوم دریافت کیا۔ان کی تحقیق 2025 کے اوائل میں نیچر اور نیچر مائیکرو بائیولوجی میں شائع ہوئی۔

گلیشیئر سے نکلنے والے نالوں میں مائیکرو آرگنزمز بائیو فلمز میں رہتے ہیں، جو پتھروں سے چپکے ہوئے جیلی نما مادے کی تہیں ہوتی ہیں۔بیٹن انہیں چپکنے والی بڑی بستیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ان برادریوں میں ایسے مائیکرو جاندار شامل ہیں جو بقا کے ماہر ہیں۔ انہوں نے ہزاروں سال کے دوران نقطہ انجماد کے قریب پانی، شدید یو وی شعاعوں اور تقریباً بغیر غذائی اجزا والے ماحول کو برداشت کرنے کے لیے ارتقا کیا ہے۔

بیٹن کے مطابق انہیں ’’پتھر کھانے والے‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہوا میں موجود معدنیات، آئرن، سلفر اور گیسوں سے غذا حاصل کرتے ہیں۔تاہم توانائی کے نقطہ نظر سے نامیاتی کاربن پر غذا حاصل کرنا زیادہ قابل عمل ے۔

یہ مائیکرو جاندار بدلتے ہوئے حالات کے سامنے انتہائی حساس ہیں۔

گلیشیئرز کے غائب ہونے کے ساتھ پہاڑی نالے زیادہ شفاف، پرسکون اور گرم ہوتے جارہے ہیں۔کچھ معاملات میں کائی بڑھ رہی ہے اور ماحولیاتی نظام سرمئی سے سبز ہورہے ہیں۔بیٹن نے 2024 میں نیچر جیو سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں اس ’’سبز منتقلی‘‘ کا مطالعہ کیا۔اس تحقیق میں دنیا بھر کے 154 گلیشئر سے نکلنے والے نالوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

مثال کے طور پر یوگنڈا میں روانزوری گلیشئر سے نکلنے والے نالے، جو افریقہ کے آخری باقی ماندہ گلیشیئرز میں سے ایک ہے اور الپائن گلیشیئرز کے مقابلے میں پیچھے ہٹنے کے زیادہ ترقی یافتہ مرحلے میں ہے، پہلے ہی زیادہ تر سبز ہوچکے ہیں۔یہ صورت حال سائنسدانوں کو اس بات کی جھلک دیتی ہے کہ آنے والی چند دہائیوں میں سوئٹزرلینڈ میں کیا ہونے کا امکان ہے۔

بیٹن کے مطابق اس صدی کے آخر تک غائب ہونے والے گلیشیئرز سے خالی ہونے والی زمین ایسے نالوں کا گھر ہوگی جو اگر ایک ساتھ رکھے جائیں تو دنیا کے سب سے طویل دریا نیل سے 40 سے 60 گنا زیادہ طویل ہوں گے۔

یہ مستقل نقصان کا ایک واضح نتیجہ ہوگا، کیونکہ انتہائی حالات کے مطابق ڈھلنے والے مائیکرو جانداروں کو اوپر کی جانب آنے والے عام جاندار مسلسل تبدیل کردیں گے۔

بیٹن کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں تمام حیاتیاتی تنوع اور اس کے ساتھ ایک جینیاتی خزانہ کھونے کا خطرہ ہے۔

گلیشیئرز کے حیاتیاتی ورثے کو محفوظ کرنے کی کوشش

اگر گلیشیئرز کو بچانے میں بہت دیر ہوچکی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کے حیاتیاتی ورثے کو کم از کم محفوظ کیا جاسکتا ہے؟بیٹن کے مطابق یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے۔

اسی مقصد کے لیے انہوں نے مائیکرو بائیل انیشی ایٹو فار دی کرائوسفیر متعارف کرایا ہے، جو ای پی ایف ایل کی جانب سے انسٹی ٹیوٹ پاسچر اور یورپی مالیکیولر بائیولوجی لیبارٹری کے ساتھ مل کر شروع کیا گیا ایک بین الاقوامی اقدام ہے۔

اس کا مقصد گلیشیئرز میں موجود متنوع مائیکرو بایوم کو غائب ہونے سے پہلے محفوظ کرنا اور اس کا مطالعہ کرنا ہے۔بیٹن کا منصوبہ گلیشیئرز کے مائیکرو جانداروں کے لیے ایک طرح کی نوح کی کشتی کی صورت میں بائیوبینک قائم کرنا ہے۔اس بائیوبینک میں دنیا بھر کے گلیشیرز سے جمع کیے گئے بیکٹیریا، وائرس، پھپھوندی اور کائی شامل ہوں گے۔یہ سائنسدانوں کو یہ جانچنے کا موقع دے گا کہ یہ جاندار کس طرح ارتقا پذیر ہوئے ہیں اور ان کی بائیوٹیکنالوجی کی صلاحیت سے فائدہ کیسے اٹھایا جاسکتا ہے۔بیٹن کے مطابق اس سے کم درجہ حرارت پر کام کرنے والے انزائمز، اینٹی بائیوٹکس کی نئی شکلیں اور بائیومیٹریلز کی تیاری ممکن ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان نالوں میں جینیاتی امکانات کا ایک خزانہ موجود ہے اور یہ موقع اس خزانے کو دستاویز کرنے سے پہلے ہی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔بیٹن کو امید ہے کہ والیس کینٹن میں ای پی ایف ایل کے ALPOLE سینٹر میں یہ بائیوبینک قائم کیا جائے گا، جس سے ان سائنسدانوں کو بھی تحقیق کا موقع ملے گا جن کے قریب کوئی گلیشیئر موجود نہیں۔

گلیشیرز کی برف میں محفوظ تاریخ

بیٹن کا ریسرچ گروپ ای پی ایف ایل میں گلیشیئرز کے قدرتی اثاثوں کو محفوظ کرنے پر کام کرنے والا واحد گروپ نہیں ہے۔ای پی ایف ایل ویلیس والس کے ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر جیروم چیپیلاز نے 2015 میں بین الاقوامی آئس میموری اقدام متعارف کرایا تھا۔یونیسکو کی حمایت یافتہ یہ اقدام سات اعلیٰ درجے کے تحقیقی مراکز کے ذریعے مشترکہ طور پر کیا جارہا ہے، جن میں CNRS اور پال شیرر انسٹی ٹیوٹ بھی شامل ہیں۔

سائنسدان خطرے سے دوچار گلیشیئرز سے الپس سے اینڈیز تک اور قفقاز سے سوالبارڈ تک برف کے کور کے نمونے جمع کررہے ہیں۔

ان نمونوں کو انٹارکٹیکا میں ایک فرانسیسی، اطالوی تحقیقی سہولت کونکورڈیا اسٹیشن پر منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ پر قدرتی اسٹوریج میں رکھا جارہا ہے۔

آئس میموری اس خیال پر مبنی ہے کہ گلیشیئرز کو تاریخ کی کتابوں کی طرح پڑھا جاسکتا ہے۔

گلیشیئرز میں موجود ہوا کے بلبلے لاکھوں سال پرانے ہوسکتے ہیں اور ان کا تجزیہ کرکے سائنسدان طویل عرصے کے دوران آب و ہوا اور فضا کی ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔جیروم چیپیلاز کو یقین ہے کہ ایک دن ایسی ٹیکنالوجی تیار ہوگی جو گلیشیئر کے ان نمونوں سے معلومات نکال سکے گی جن کی اس وقت تشریح ممکن نہیں۔تاہم ان کا ماننا ہے کہ جب ایسی ٹیکنالوجی تیار ہوگی تو یہ نمونے موجود ہونے چاہئیں۔

زیر زمین پانی بھی اہم ذخیرہ

پانی کی فراہمی میں متوقع تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جیووانی ڈی سیزارے ایک کم معلوم حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔ان کے مطابق زمین پر موجود 98 فیصد مائع میٹھا پانی ہمارے پیروں کے نیچے واٹر ٹیبل میں موجود ہے۔وہ اسے ہمارا اسٹریٹجک ریزرو قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی وہ پانی ہے جسے ہم آلودہ کرنے کے عمل میں ہیں۔ان کے مطابق دریا کا پانی دریا کے بہاؤ کی رفتار کے لحاظ سے صرف چند گھنٹوں میں قدرتی طور پر خود کو تجدید کرسکتا ہے، جبکہ جھیل جنیوا جیسے ذخیرے کو تجدید ہونے میں تقریباً ایک درجن سال لگتے ہیں۔تاہم واٹر ٹیبل کے معاملے میں 100 سے 10 ہزار سال کی مدت کی بات ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جو پانی آج آلودہ کیا جاتا ہے وہ صدیوں تک ہمارے ساتھ رہے گا اور ہمیں اس پانی کی قدر کا احساس صرف اس وقت ہوگا جب یہ نایاب ہونا شروع ہوجائے گا۔بیٹن بھی فوری اقدام پر زور دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں آج سے عمل کرنے کی ضرورت ہے، 20 یا 30 سال بعد نہیں، ہمارے پاس علم اور ٹیکنالوجی موجود ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم اپنے ہی بدترین دشمن ہیں۔

پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ

پہاڑی علاقے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا بہترین جواب کیسے دے سکتے ہیں، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب یورپی یونین کے ہورائزن یورپ پروگرام کے ذریعے مالی اعانت سے چلنے والا ماؤنٹ ریزینس پروجیکٹ تلاش کررہا ہے۔یہ منصوبہ نو ممالک میں 47 شراکت دار تنظیموں کو اکٹھا کرتا ہے، جن میں فن لینڈ کے لاپلینڈ سے لے کر اطالوی الپس تک کے علاقے شامل ہیں۔سوئس ٹیم کینٹن والیس کے وال ڈی بگنس میں قائم ہے اور اس کی قیادت EPFL+ECAL Lab کررہا ہے۔وہاں سائنسدان، جن میں بیٹن کی سربراہی میں RIVER لیب کے لوگ بھی شامل ہیں، انجینئرز، انٹرایکشن ڈیزائنرز، پالیسی سازوں اور پانی کے نظام کے صارفین، جیسے کسان، سیاحتی کمپنیاں اور رہائشیوں کے ساتھ مل کر قدرتی وسائل کا مطالعہ کررہے ہیں۔