بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IIT) بمبئی کے دوسرے سال کے ایک طالب علم نے گزشتہ شب موبائل فون کے ذریعے امتحان میں نقل کرتے پکڑے جانے کے بعد خودکشی کر لی۔
ادارے کے مطابق انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ کے شعبے کے طالب علم نے امتحان کے دوران جوابات حاصل کرنے کے لیے امتحانی سوالنامہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کیا تھا۔
حکام نے بتایا ہے کہ طالب علم کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔
انسٹرکٹر اور شعبے کے سربراہ نے بھی طالب علم سے اس معاملے پر بات کی، اسے سمجھایا اور یقین دلایا کہ اس واقعے سے اس کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔
گفتگو کے بعد طالب علم اپنے ہاسٹل کے کمرے میں واپس چلا گیا، بعد ازاں شام کو اسے اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔
مزیدپڑھیں:کرسٹیانو رونالڈو کے مداحوں کیلیے بڑی خوشخبری
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آئی آئی ٹی کے پوائی کیمپس میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران یہ تیسرا خودکشی کا واقعہ ہے، یہ خبر سامنے آتے ہی کیمپس کے باہر طلبہ نے احتجاج شروع کر دیا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ادارہ واقعے سے متعلق مکمل حقائق سامنے نہیں لا رہا۔
طلبہ کا دعویٰ تھا کہ نقل کے الزام کا سامنا کرنے والے طالب علم کو مبینہ طور پر ایک سال کی معطلی کی دھمکی دی گئی تھی، جس سے اس کی 4 سالہ ڈگری 5 سال یا پھر اس سے طویل ہو سکتی تھی، جبکہ معطلی کی صورت میں طالب علم کو ہاسٹل خالی کر کے کیمپس سے باہر بھی رہنا پڑتا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ تادیبی کارروائی کے خوف اور دباؤ نے ممکنہ طور پر طالب علم کو یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔













ہفتہ 19 ستمبر 2026 

