چین نے خلا میں پودوں کی 14 اقسام کی کامیابی سے کاشت کرلی، خلائی باغ قائم

Calender Icon پیر 21 ستمبر 2026

چین نے خلا میں پودوں کی 14 اقسام کی کامیابی سے کاشت کرلی ہے، جسے خلائی تحقیق کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

چین کے ایسٹروناٹ سینٹر کے مطابق، یہ ایک بڑا سنگ میل ہے جو خلائی اسٹیشن پر بڑے پیمانے پر فصل کی پیداوار کی بنیاد رکھتا ہے۔ اس پیش رفت کو شمالی چین کی تیانجن میونسپلٹی میں منعقدہ ایرو اسپیس میڈیکل انجینئرنگ کانفرنس میں خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا۔ کانفرنس کے دوران شینزہو 21 کے عملے کے مشن سے تعلق رکھنے والے خلاباز ژانگ ہونگ ژانگ نے چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر قائم ایک پھلتے پھولتے “خلائی باغ” کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں، جس میں کیروٹا، لیٹوس اور پوٹہ جیسی فصلیں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ چین کے طویل مدتی عملے کی خلائی پرواز کا دور اکتوبر 2021 میں شروع ہوا تھا۔

چین کے ایسٹروناٹ سینٹر کے ماہر کیانگ کا کہنا ہے کہ خلا میں طویل مدتی قیام کے لیے یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ زمین پر انحصار کو کم سے کم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے کنٹرول شدہ ماحولیاتی زندگی کے تجربات کا بنیادی مقصد خلا میں ایک ایسا خودکار ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے جو پانی، ہوا اور خوراک کو خود بخود دوبارہ پیدا کر سکے، تاکہ زمین پر مکمل انحصار ختم کر کے آخر کار خلائی سفر میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔