خدام الحجاج کے این ٹی ایس ٹیسٹ پر بڑا تنازع، قائمہ کمیٹی میں گرما گرمی

Calender Icon جمعرات 24 ستمبر 2026

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں خدام الحجاج کے انتخاب کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کے ذریعے ٹیسٹ لینے کے معاملے پر شدید اختلاف سامنے آگیا۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس کنوینئر شگفتہ جمانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں خدام الحجاج کے انتخاب کے موجودہ طریقہ کار اور این ٹی ایس کے کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔

کنوینئر کمیٹی شگفتہ جمانی (Shagufta Jumani) نے مؤقف اختیار کیا کہ خدام الحجاج کے انتخاب میں این ٹی ایس کا کردار نہیں ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے سابقہ طریقہ کار بحال کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خدام الحجاج کے انتخاب کے لیے این ٹی ایس ٹیسٹ ضروری قرار دیا گیا ہے تو پھر وزیر اور سیکرٹری کا بھی این ٹی ایس ٹیسٹ ہونا چاہیے۔

شگفتہ جمانی نے الزام عائد کیا کہ این ٹی ایس کے ذریعے بھی مبینہ طور پر کرپشن کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت خدام الحجاج کے این ٹی ایس ٹیسٹ کے لیے مبینہ طور پر ایک سے تین لاکھ روپے تک کے ریٹ کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ سندھ میں مبینہ طور پر ایک لاکھ روپے تک رقم طلب کیے جانے کی شکایات ہیں۔

اس پر سیکرٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا (Abrar Ahmed Mirza) نے کہا کہ اگر این ٹی ایس کے عمل میں کرپشن ہو رہی ہے تو اس کے ثبوت سامنے لائے جائیں، کارروائی کی جائے گی۔

سیکرٹری مذہبی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ این ٹی ایس کا نظام تقریباً تین سال قبل اس لیے متعارف کرایا گیا تھا تاکہ خدام الحجاج کے انتخاب میں ذاتی پسند، سفارش یا بغیر میرٹ افراد کو حج ڈیوٹی پر بھیجنے کا سلسلہ روکا جا سکے۔

اجلاس میں جوائنٹ سیکرٹری مذہبی امور عبد الوحید شاہ (Abdul Waheed Shah) نے بھی این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ پر انتخاب کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ این ٹی ایس سے قبل پمز کے ایک میڈیکل معاون سے حج کے دوران ملاقات ہوئی تھی، جس نے بتایا کہ وہ تقریباً دس سال سے سفارش کے ذریعے خدام الحجاج کے لیے منتخب ہونے کی کوشش کر رہا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔

عبد الوحید شاہ کے مطابق رواں سال اسی پمز ملازم نے این ٹی ایس کا ٹیسٹ دیا اور بغیر کسی سفارش کے میڈیکل معاون کی حیثیت سے حج ڈیوٹی پر منتخب ہوگیا۔

سیکرٹری مذہبی امور نے مؤقف اختیار کیا کہ این ٹی ایس کو بنیادی طور پر ایسے افراد کو خدام الحجاج کے طور پر بھیجے جانے سے روکنے کے لیے لایا گیا تھا جو میرٹ پر پورا نہیں اترتے۔

دوسری جانب شگفتہ جمانی نے دعویٰ کیا کہ خدام الحجاج کے انتخاب اور حج ڈیوٹی کے معاملات میں مبینہ طور پر مالی لین دین کی شکایات بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں خدام سے مبینہ طور پر یہ طے کیا جاتا ہے کہ حج کے دوران انہیں ملنے والی رقوم ان کے بجائے ایجنٹ کو دی جائیں گی۔

مزیدپڑھیں:ڈاکٹر نجیب نقی صدر آزاد کشمیر منتخب، وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد

کنوینئر کمیٹی نے این ٹی ایس کے ذریعے پڑھے لکھے اور موزوں افراد کے انتخاب پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف این ٹی ایس ٹیسٹ کے ذریعے بہتر امیدواروں کا انتخاب کیسے ممکن ہوگا۔

اس موقع پر جوائنٹ سیکرٹری مذہبی امور عبد الوحید شاہ نے اپنی تعلیمی قابلیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سی ایس ایس کر کے آئے ہیں۔

اجلاس کے دوران شگفتہ جمانی نے وزارت مذہبی امور اور حج آرگنائزرز (ہوپ) کے کوٹے سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا الزام تھا کہ ماضی میں وزارت کے بعض افراد نے سرکاری اخراجات پر اپنے رشتہ داروں کو بھی حج پر بھجوایا، جبکہ وزارت کے ملازمین کے سالے اور سالیوں تک کو ہوپ کے کوٹے میں شامل کرکے بھیجنے کی شکایات سامنے آئیں۔

شگفتہ جمانی کے ان ریمارکس پر سیکرٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں دیکھ کر الزام عائد کر رہی ہیں۔

کنوینئر کمیٹی نے وضاحت کی کہ وہ سیکرٹری مذہبی امور پر ذاتی الزام عائد نہیں کر رہیں بلکہ عمومی طور پر ماضی میں سامنے آنے والے معاملات کی بات کر رہی ہیں۔

سیکرٹری مذہبی امور نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا ایک بھی رشتہ دار خدام الحجاج کی حیثیت سے حج پر گیا ہو تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ انہوں نے کنوینئر کمیٹی کو چیلنج کیا کہ بغیر ثبوت الزامات عائد نہ کیے جائیں اور اگر کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے سامنے لایا جائے۔

ابرار احمد مرزا نے مزید کہا کہ اگر این ٹی ایس کے نظام میں کوئی مسئلہ ہے تو اسے ضرور درست کیا جائے گا، تاہم این ٹی ایس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صورت میں ماضی کی طرح میرٹ سے ہٹ کر فیصلوں کا راستہ دوبارہ کھل سکتا ہے۔

اجلاس میں خدام الحجاج کے انتخاب کے لیے شفافیت، میرٹ اور ٹیسٹنگ کے موجودہ نظام پر مزید غور کیا گیا، جبکہ کمیٹی ارکان اور وزارت مذہبی امور کے حکام کے درمیان این ٹی ایس کے کردار اور سابقہ طریقہ کار کی بحالی کے معاملے پر اختلاف برقرار رہا۔