اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس(António Guterres) نے حکومت پاکستان کی طرف سے ’نشانِ امتیاز‘ ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی قوم کی سخاوت، ہمت اور استقامت کی بے حد تعریف کی ہے اور پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی خدمات کے اعتراف پر گہرے اعزاز اور ممنونیت کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے لکھا ’میں سالہا سال سے پاکستانی عوام کا مداح رہا ہوں۔ وہ انتہائی سخی، پرعزم، شفیق اور عظیم چیلنجز کے سامنے ثابت قدم رہنے والے لوگ ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی خدمات کا اعتراف کیے جانے پر دلی طور پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے اس اعزاز کو دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں خدمات انجام دینے والے اقوام متحدہ کے تمام مرد و خواتین اہلکاروں کی طرف سے قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
قبل ازیں ایوانِ صدر میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو بین الاقوامی سطح پر ان کی ممتاز خدمات، اقوام متحدہ کی بہترین قیادت، اور عالمی امن و ترقی کے لیے ان کی کاوشوں کے اعتراف میں پاکستان کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’نشانِ امتیاز‘ سے نوازا۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کے کسی سیکرٹری جنرل کو اس اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے۔
اس پروقار تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سینیٹر سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان، اراکینِ پارلیمنٹ اور سفارتی برادری کے نمایاں افراد نے شرکت کی۔
Over many years, I have admired the Pakistani people: generous, resilient, compassionate & steadfast in the face of immense challenges.
I am deeply honoured by Pakistan’s recognition today of the work of @UN.
I am grateful & accept this award on behalf of the women & men of the… pic.twitter.com/CPXCPGUkEG
— António Guterres (@antonioguterres) October 6, 2026
ایوان صدر میں ’نشانِ امتیاز‘ عطا کیے جانے کی تقریب سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کی اصولی قیادت، عالمی امن، مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے انتونیو گوتیرس کی کوششوں کو سراہا۔ صدر نے پاکستان کے ساتھ ان کے مثبت تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے تحفظات پر ان کی توجہ کا بھی خیرمقدم کیا۔
صدر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں پرعزم ہے۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے سیکرٹری جنرل کی مسلسل جدوجہد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کی حمایت جاری رکھے گا۔
جنوبی ایشیا میں امن و استحکام پر بات کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بطور برابر کے پڑوسی باہمی بات چیت اور تمام زیر التوا تنازعات، بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ضروری ہے۔
صدر مملکت نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک قانونی اور پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے ایک طرفہ طور پر معطل یا التوا میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کو ہتھیار یا سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور بین الاقوامی عدالتوں کے تسلیم شدہ پاکستان کے آبی حقوق کا احترام لازمی ہے۔
علاقائی سفارت کاری کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں، بشمول اسلام آباد مذاکرات، کشیدگی میں کمی، بات چیت اور انسانی زندگیوں کے تحفظ کے اصولوں پر مبنی ہیں۔
دہشتگردی اور افغانستان کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک پرعزم شراکت دار رہا ہے اور اس مقصد کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے متحرک گروہوں کی جانب سے دہشتگردی کا سامنا ہے اور اس سلسلے میں غیر ملکی سرپرستی کے شواہد بھی شیئر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے تاریخی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن برقرار رکھنے والے اہلکار دنیا بھر کے 48 یو این مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے ساتھ پاکستان کے کامل تعاون کا اعادہ کیا۔













بدھ 7 اکتوبر 2026 

