امریکی خلیجی ساحلی پٹی سے جمعہ کو کیٹیگری 2 کا خطرناک سمندری طوفان اسائیس(Hurricane Isis) ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں ریاست الاباما اور فلوریڈا کے پین ہینڈل کے علاقوں میں تیز ہواؤں، شدید بارشوں، سیلاب اور سمندری لہروں کے باعث خطرات بڑھ گئے۔
میامی میں قائم امریکی نیشنل ہریکین سینٹر کے مطابق بحرِ اوقیانوس کے رواں سیزن کا پہلا سمندری طوفان فلوریڈا کے شہر ڈیسٹن کے قریب ساحل سے ٹکرایا۔ اس وقت طوفان کی ہواؤں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 105 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 169 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔
ساحل سے ٹکرانے سے قبل طوفان کی شدت بڑے سمندری طوفان کی سطح سے کچھ کم ہوگئی تھی، جبکہ ہفتے کی صبح تک ہواؤں کی رفتار میں مزید کمی کے باعث اسے سمندری طوفان کی درجہ بندی سے خارج کردیا گیا۔
فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے نیوز کانفرنس کے دوران شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ طوفان علاقے میں پہنچ چکا ہے، اس لیے لوگ محفوظ مقامات پر رہیں اور سڑکوں پر نکلنے سے گریز کریں۔ ان کے مطابق پورے خطے میں اچانک سیلاب آنے کا خطرہ موجود ہے۔
طوفان نے خلیجی ساحل کے نشیبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جہاں تیز ہواؤں نے ساحلی آبادیوں کو متاثر کیا۔ یہ علاقے سفید ریت کے ساحلوں، تعطیلات کے لیے بنائے گئے گھروں، ساحلی بارز اور سمندری غذا کے ریستورانوں کے باعث مشہور ہیں۔
محکمہ موسمیات نے فلوریڈا کے پین ہینڈل اور جنوبی ریاست جارجیا میں بگولے بننے کے خدشے سے بھی خبردار کیا۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب آٹے کی قیمت بڑھنے پر برہم، 10 ارب روپے کی سبسڈی منظور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی رات وائٹ ہاؤس واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ سمندری طوفان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال قابو میں ہے۔
طوفان کے باعث ڈیسٹن کی سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا، جبکہ قریبی شہر پینساکولا میں پولیس نے سڑکوں پر ملبہ بکھرنے کے باعث شہریوں کو باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
ابتدائی طور پر نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آسکی تھیں، تاہم مقامی شہریوں نے سوشل میڈیا پر درختوں اور بجلی کی تاروں کے گرنے کی تصاویر شیئر کیں۔ ایک ویڈیو میں پینساکولا کے ایک ہوٹل کی چھت تیز ہواؤں کے باعث اڑتی ہوئی دکھائی دی۔
حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا تھا، جبکہ شہریوں کو سیلاب، تیز ہواؤں اور ممکنہ بگولوں کے خطرات کے پیش نظر احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی۔













ہفتہ 10 اکتوبر 2026 

