گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ، وفاقی اعلان مسترد کرتے ہیں، فضل الرحمان

Calender Icon اتوار 11 اکتوبر 2026

مرکزی کور کمیٹی کا اہم اجلاس میں سربراہ جمعیت علماء اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ ہم جمہوری حقوق کا دفاع کریں گے، پارلیمنٹ میں عوامی حقوق کا دفاع کریں گے

مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر غوروخوض کیا گیا، اجلاس میں آئندہ کا لائحۂ عمل طے کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمن نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وفاقی حکومت نے گورنر راج اور بعض علاقوں میں جو ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان ہے، ہم اسے حرف بہ حرف مسترد کرتے ہیں، جی یوآئی اس پر عوام میں جائے گی، جے یو آئی عدالت جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جمہوری حقوق کا دفاع کریں گے، پارلیمنٹ میں عوامی حقوق کا دفاع کریں گے، میں بتاتا ہوں کہ معاملات یہاں تک کیسے پہنچے، میں سات اکتوبر کو اسلام آباد آیا، پی ٹی آئی رہنما میرے پاس آئے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جو انہوں نے ہمیں معلومات فراہم کی، ہم نے نہ اپنا نکتہ نظر دیا کہ حکومت نے مزاکرات کی کوئی راہ چھوڑی نہیں، دو نواں طرف کی صورتحال سامنے آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ میں تھی اور کے پی کے میں مراحل طے کررہی تھی، ہمارے کہنے پر پی ٹی آئی نے اسلام آباد آنے کو موخر کیا ہوا تھا۔

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مجھے وزیراعظم کے دفتر سے کل شام کو کھانے پر دعوت کی اطلاع ملی، میں نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا کہ وزیراعظم سے ملنا چاہیے یا نہیں، میں چار مہینوں سے وزیراعظم سے نہیں ملا تھا۔

میرے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ ملک کی خاطر آپ ملاقات کریں، وزیراعظم کے پاس گئے تو ان کایہ تھا کہ پہلے لانگ مارچ کال آف کیا جائے، پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائیں اور پھر انہیں اسپتال منتقل کریں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کھانے پر وزیراعظم سے تفصیلی گفتگو ہوئی، میں نے کہانیاں پہلے پی ٹی آئی سے بات کرلوں، کیونکہ سہیل آفریدی مارچ کولیڈ کررہے تھے مگر میرے ساتھ رابطہ میں نہیں تھے، میں نے آکر سہیل آفریدی ودیگر سے رابطہ کیا۔

میں نے آج صبح کی نماز جی وقت وزیراعظم سے رابطہ کیا، کیونکہ وزیراعظم جلدی سو جاتے ہیں اور صبح بہت جلدی جاگ جاتے ہیں، وزیراعظم نے کہاکہ آج کابینہ کا اجلاس ہے اس سے پہلے کچھ کرلیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ اگر حکومت ہمارے مطالبات مان لیتی ہے تو ہم لانگ مارچ کال آف کردیں گے، وزیراعظم نے رات نو بجے فون کیا کہ وہ سب معاملات کابینہ کے سامنے رکھیں گے، پھر دس بجے اسحق ڈار کا فون آیا کہ ہم صوبہ میں ایمرجنسی نافذ کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں:گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا وفاقی اعلان مسترد کرتے ہیں، فضل الرحمان

میں نے اسحق ڈار سے پوچھا کیوں ایمرجنسی لگا رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ صوبہ میں دہشت گردی بہت ہے، میں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی نہیں ہے۰۰۰؟ صرف بات یہ کہ بلوچستان کی حکومت ہاں میں ہاں ملاتی ہے۔