صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 54(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل جمعرات 15 اکتوبر کو صبح 11 بجے طلب کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پارلیمانی ایجنڈے کے تحت مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت جاری صدارتی اعلان کی منظوری کے لیے باضابطہ قرارداد پیش کی جائے گی، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت جاری کیے گئے گورنر راج کے صدارتی اعلان کو بھی ایوان کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا. ایجنڈے میں ان صدارتی اعلانات اور قراردادوں کی پیشی کو آسان بنانے کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے قواعد 1973ء کی بعض شقوں کو معطل کرنے کی تحریک بھی شامل کی گئی ہے. وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری دونوں اعلانات ایوان کے سامنے رکھیں گے اور ان کی منظوری کے لیے الگ الگ قراردادیں پیش کریں گے.
آئینی طور پر آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی توثیق اور آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی نظام کی معطلی و گورنر راج کے لیے قانونی اور پارلیمانی منظوری انتہائی ضروری ہے. اس اہم مشترکہ اجلاس میں سیاسی تناؤ اور ہنگامہ آرائی عروج پر رہنے کا امکان ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں (بشمول پاکستان پیپلز پارٹی) صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو جواز بنا کر ان صدارتی اعلانات اور قراردادوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف اپوزیشن جماعت (خصوصاً پاکستان تحریک انصاف) اسے جمہوری حکومت پر شب خون اور غیر آئینی قدم قرار دے کر ایوان کے اندر شدید احتجاج اور بھرپور سیاسی مزاحمت کی تیاری کر رہی ہے۔ اس محاذ آرائی کے باعث پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے انتہائی ہنگامہ خیز ہونے کی توقع ہے۔













بدھ 14 اکتوبر 2026 

