وزیر دفاع خواجہ آصف(Khawaja Asif) نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی کے ادوار میں سب سے زیادہ دیئے گئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنس کی حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔
خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی، 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ وقت میں کل 4,917 مائننگ لائسنس جاری ہو چکے ہیں، ان میں سے 4,133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں۔
خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کی حقیقت (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق):
قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ…— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 17, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ اس پورے عرصے میں عسکری ادارے ایف ڈبلیو او کو صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں دیا گیا تھا، جہاں ایف ڈبلیو او تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا۔
مزیدپڑھیں:لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں عمر قید کا مجرم بری کردیا
انہوں نے بتایا کہ اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی دورِ حکومت میں جاری ہوئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں.













ہفتہ 17 اکتوبر 2026 

