ایمرجنسی یا معدنی وسائل؟ طارق فضل چوہدری کا مولانا فضل الرحمٰن کو دوٹوک جواب

Calender Icon ہفتہ 17 اکتوبر 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری(Tariq Fazal Chaudhry) نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنا افسوسناک ہے، دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے کو سیاسی الزامات کی نذر کرنے کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح عوام کا تحفظ اور خیبر پختونخوا میں امن کا قیام ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن ایک سینئر سیاستدان ہیں اور وہ خود بھی دہشت گردی کے نقصانات سے واقف ہیں، اس لیے ان سے توقع ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں کا ساتھ دیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 13 سال حکومت کرنے والی تحریک انصاف کو اپنی کارکردگی اور صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا جواب دینا ہوگا۔

مزید پڑھیں:حرا مانی کا نیا بولڈ انداز تنقید کی زد میں، سوشل میڈیا صارفین برہم

انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے افسران اور جوان وطن میں امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سیاسی الزام تراشی کے بجائے قومی اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن، تحفظ اور ترقی چاہتے ہیں، انہیں سیاسی تنازعات نہیں بلکہ ایک پُرامن ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے اور تمام سیاسی قوتوں کو ملکی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔