امریکا کا قومی قرض 40.4 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگیا، میڈیا رپورٹس

Calender Icon جمعرات 22 اکتوبر 2026

واشنگٹن: امریکا (United States)کا قومی قرض صرف دو ماہ کے دوران تقریباً 400 ارب ڈالر بڑھ کر 40.4 ٹریلین ڈالر کے قریب پہنچ گیا جس سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو درپیش مالیاتی دباؤ اور حکومتی اخراجات کے استحکام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق امریکی محکمہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ امریکی قومی قرض 19 اگست 2026 کو 40 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچا تھا جس کے بعد اس میں مزید تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا۔

امریکی ماہرین کی پیش گوئیوں کے مطابق آئندہ ایک دہائی میں ملک کا قومی قرض مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 120 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ اس صورت میں وفاقی حکومت کا مجموعی قرض امریکا کی ایک سال کے دوران پیدا ہونے والی تمام اشیا اور خدمات کی مالیت سے بھی بڑھ جائے گا۔

قرض کا بڑھتا ہوا حجم امریکی حکومت کے بجٹ پر بھی بھاری پڑ رہا ہے۔ امریکا سالانہ تقریباً 970 ارب ڈالر صرف قومی قرض پر سود کی ادائیگیوں کے لیے خرچ کرتا ہے جو دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔ 2020 کے بعد قرض پر سود کی ادائیگیوں کے اخراجات تقریباً تین گنا ہوچکے ہیں، جس سے حکومتی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں:دوسرا ٹیسٹ: جینسن اور ربادا کی تباہ کن بولنگ، آسٹریلیا کو اننگز کی شکست کا خطرہ

پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے مطابق اگر حکومتی اخراجات یا ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو امریکی قومی قرض آئندہ چھ برس میں 50 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

معاشی ماہرین کے لیے اصل تشویش صرف قرض کی ریکارڈ سطح نہیں بلکہ اس کی رفتار سے بڑھتی ہوئی سود کی ادائیگیاں بھی ہیں۔

قرض پر زیادہ رقم خرچ ہونے سے دفاع، صحت، سماجی بہبود اور دیگر شعبوں کے لیے دستیاب مالی گنجائش محدود ہوسکتی ہے، جبکہ بلند شرح سود کی صورت میں نئے قرض کا حصول مزید مہنگا پڑ سکتا ہے۔