ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن (MOHRE) نے ملک بھر کے کاروباری اداروں اور آجروں کو خبردار کیا ہے کہ مزدوروں کے حقوق سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر 10 لاکھ درہم تک کے بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ حکومتی اداروں کی جانب سے مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور روزگار کے قوانین کو مزید سخت کرنے کے لیے ملک بھر میں فیلڈ معائنے اور سخت قانونی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں لیبر مارکیٹ کو شفاف بنانے اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر ایک اور سخت قدم اٹھایا گیا ہے۔ وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن نے واضح کیا ہے کہ لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں اور آجروں کو اب سنگین مالی اور قانونی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ حکام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام کمپنیاں ملازمت کے ضوابط کی مکمل پاسداری کریں اور کسی بھی قسم کے استحصال یا غیر قانونی سرگرمیوں سے گریز کریں۔
لیبر قوانین کی پانچ اہم خلاف ورزیاں اور سزائیں:
وزارت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں پانچ بڑی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر 100,000 درہم سے لے کر 10 لاکھ (1 ملین) درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے:
1. بغیر درست ورک پرمٹ کے ملازمین کی بھرتی:
ایسی کمپنیاں جو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر یا بغیر ورک پرمٹ کے ورکرز کو کام پر رکھتی ہیں، انہیں کڑے جرمانوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
2:فرضی ملازمتیں اور ویزا فراڈ
ملازمت کے جھوٹے وعدے کر کے یا اماراتائزیشن (Emiratisation) کے کوٹے کو پورا کرنے کے لیے فرضی ملازمین (Fictitious Workers) کا ریکارڈ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف سخت ترین تادیبی اور فوجداری کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔
3.بغیر جاب فراہم کیے افراد کو ملک میں لانا:
وہ ادارے جو افراد کو نوکری کی یقین دہانی کرا کر ملک میں لے آتے ہیں لیکن عملی طور پر کوئی روزگار فراہم نہیں کرتے، وہ بھی اس قانون کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
4.قانونی ذمہ داریاں پوری کیے بغیر کاروبار بند کرنا:
اگر کوئی کمپنی اپنے ملازمین کے واجبات، واجب الادا حقوق اور قانونی مراعات کی ادائیگی کیے بغیر اپنا کاروبار سمیٹ لیتی ہے یا بند کر دیتی ہے، تو اس پر بھی بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
5.ملازمین کو فرضی یا غیر متعلقہ اسپانسرشپ دینا:
ایسے آجر جو ایسے ملازمین کو اسپانسر کرتے ہیں جو حقیقت میں ان کے پاس کام نہیں کرتے یا مارکیٹ میں غیر قانونی طریقے سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
فوجداری سزائیں اور قانونی کارروائی:
وزارت نے واضح کیا ہے کہ جرمانوں کے علاوہ بعض سنگین صورتحال میں مجرمانہ سزائیں (Criminal Penalties) بھی دی جا سکتی ہیں، جن میں کمپنیوں کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی اور لائسنس معطل کرنا شامل ہے۔ فرضی بھرتیوں کے معاملے میں جرمانے کی رقم ان ملازمین کی تعداد کے لحاظ سے بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔
حکومت کا عزم اور معاشی استحکام:
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں ایک متوازن، منصفانہ اور شفاف کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور لیبر مارکیٹ میں قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی ملک کی معاشی ترقی اور بین الاقوامی ساکھ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تمام کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام امور کو فوری طور پر قانونی دائرہ کار کے اندر منتقل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار کارروائی سے بچا جا سکے۔
کمپنیوں کے لیے ڈیڈ لائن اور معائنے کا نظام:
وزارتِ انسانی وسائل کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تمام نجی اور تجارتی کمپنیوں کو اپنے داخلی نظام اور ملازمت کے معاہدوں کو موجودہ لیبر فریم ورک کے مطابق ڈھالنے کے لیے باقاعدہ آگاہی مہمات چلوائی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ملک بھر کے مختلف تجارتی زونز اور کاروباری مراکز میں خصوصی تفتیشی ٹیمیں (Inspection Teams) روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ وزٹس کر رہی ہیں۔ ان ٹیموں کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی وقت ورک سائٹ یا آفس کا دورہ کر کے ملازمین کے ورک پرمٹ، باقاعدہ حاضری اور ویزا اسٹیٹس کا معائن کر سکیں۔
شہریوں اور تارکینِ وطن کے لیے آن لائن رپورٹنگ سسٹمز:
اماراتی حکام نے عام شہریوں، کارپوریشنز اور ملازمین کو بھی ترغیب دی ہے کہ اگر ان کے علم میں لیبر قوانین کی کوئی سنگین خلاف ورزی، فرضی نوکریاں، یا غیر قانونی ورک پرمٹ کا استعمال آئے، تو وہ فوری طور پر وزارت کی آفیشل ہیلپ لائن، موبائل ایپ یا پورٹل کے ذریعے اس کی اطلاع دیں۔ رپورٹ کرنے والے افراد کی شناخت کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جائے گا تاکہ لیبر مارکیٹ کو ہر قسم کی بلیک مارکیٹنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک کیا جا سکے۔













جمعہ 23 اکتوبر 2026 

