بینظیرانکم سپورٹ پروگرام(BISP) میں بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، ساڑھے 22 لاکھ افراد پروگرام سے باہر، آڈٹ رپورٹ میں 24 ارب کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ، فنڈ سے مستفید ہونیوالوں میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کی نشاندہی،جعلی طریقے سے مستفید ہونیوالوں سے 712 ملین روپے سے زائد وصول ،236ملازمین سے وصولی اور تادیبی کاروائی جاری ہے
،وفاقی کا بینہ کے 2019کے فیصلہ کی روشنی میں بی آئی ایس پی سے مستفید ہونیوالے 8 لاکھ سے زائد جعلی افراد کو ادائیگیاں روک دی گئیں ، جن میں سرکاری ملازمین یا انکی شریک حیات بھی شامل ہیں ،تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش ۔چنگیز احمد خان کے سوال پر وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت عمران احمد شاہ نے ایوان کو تحر یری جواب میں بتا یا کہ ۔آڈٹ رپورٹ میں 2019/20 میں ایک لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین اور انکے اہلخانہ کی بی آئی ایس پی فنڈ سے مستفید ہونیوالوں کی نشاندہی کی گئی۔
مزیدپڑھیں:ڈرون نہ ہی میزائل: حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف نئے ہتھیار کا استعمال شروع کردیا
جعلی طریقے سے بی آئی ایس پی فنڈ سے مستفید ہونیوالوں سے اب تک 712 ملین روپے سے زائد وصول گئے،جن میں 545 ملین روپے سے زائد ایف آئی اے کے زریعے جبکہ 21 ملین روپے سے زائد بی آئی ایس پی کے ملازمین سے وصول کیے گئے ۔













ہفتہ 24 اکتوبر 2026 

